fbpx

نوازشریف حکومت کی مدت پوری کرنے پر مان گئے،قانون شکنی پر گرفتاریوں کا فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم فیصلے لئے گئے. اجلاس وزیراعظم شیہباز شریف کی رہائشگاہ میں منعقد ہوا، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے،مریم نواز اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز،وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ اور احسن اقبال سمیت دیگر رہنما وں نے بھی اجلاس میں شرکت کی.

زرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان کے آزادی مارچ سمیت آئی ایم ایف مذاکرات اور حکومت کےمستقبل پر غور کیا گیا اور پارٹی کے قائد نوز شریف کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہونے واکی مشاورت پر اعتماد میں لیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے حکومت سے فوری طور پر الگ نہ ہونے کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں نواز شریف نے مشورہ دیا کہ اگر آئی ایم ایف سے عوامی ریلیف پیکیج نہیں ملتا تو بڑے فیصلے کیے جائیں، پچھلی حکومت کا ملبہ ہم کیوں اپنے سرلیں۔

نواز شریف نے ہدایت دی کہ ملک کو انتشار کرنے والوں کے رحم و کرم نہ چھوڑا جائے، لانگ مارچ کا شور آئی ایم ایف سے مذاکرات کو متاثر کرنے لیے مچایا گیا، لانگ مارچ کے خلاف حکمت عملی پر اتحادیوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے اور ہر فیصلے میں آصف زرداری کو ساتھ رکھا جائے۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کسی غیر آئینی مطالبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت اور اتحادیوں کے فیصلے سے اہم شخصیت کو آگاہ کردیا گیا اور طے پایا کہ حکومت کے خلاف محاذ آرائی کو سختی سے ساتھ نمٹا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اتحادی حکومت قانون ہاتھ میں لینے والوں کو گرفتار کرے گی۔

نواز شریف نے دوران اجلاس کہا کہ قوم کو انتشار پیدا کرنے والوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ رانا صاحب! آپ امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے تیار رہیں۔زرائع کے مطابق پنجاب کی جیلوں کو صاف کروانے اور سیاسی شخصیات کو الگ سیل میں رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

نواز شریف نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کا بل جلد تیار کرکے اسے قومی اسمبلی سے پاس کرایا جائے، نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے فوری اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا آغاز کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اجلاس کے شرکا کو پنجاب میں نمبر گیم کے حوالے سے آگاہ کیا۔ شرکا نے پنجاب کے بڑے شہروں میں مزید جلسے کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

زرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی ٹٰی آئی کا مارچ پر امن ہوا تو حکومت اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی. اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف قانونی حدود میں رہتے ہوئے لانگ مارچ کرتی ہے تو کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہیں کی جائے گی۔

تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی تو پھر قانونی طریقے سے نمٹا جائے گا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کو کشمیر ہائی وے تک محدود کرنے پر بھی اتفاق کیا گیاہے.

صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت داخلہ سے پلان بھی طلب کرلیا، جبکہ اس حوالے سے کل وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی بلائے جانے کا مکان ہے

وزارت داخلہ کی رپورٹ کی روشنی میں وفاقی کابینہ اہم فیصلوں کی منظوری دے گی ، اجلاس میں پنجاب پولیس ،ایف سی اور رینجرز کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اتحادی جماعتون کو آج کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا. اجلاس میں اس بات کو بھی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے.

یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو ختم کر کے ملک میں فوری شفاف انتخابات کروائے جائیں۔جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کے حقیقی آزادی مارچ کےحوالے سے کہا تھا کہ عمران نیازی خانہ جنگی چاہتا ہے تو یہ اس کی بڑی بھول ہے،عوام گریبان پکڑیں گے،معاف نہیں کریں گے۔