قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں،پشاور ہائیکورٹ

0
115
peshawar highcourt

پشاورہائیکورٹ میں ایم ڈی کیٹ کےد وبارہ انعقاد کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی،

جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس شکیل احمد نے سماعت کی،درخواست گزار نے عدالت میں کہاکہ پہلے ٹیسٹ میں ہمارے نمبرزیادہ تھے، دوسرے میں کم نمبر حاصل کئے،دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے اس کو واپس کیا جائے،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ میڈیکل کالجز میں داخلے ہو چکے ہیں، کلاسز جاری ہیں،بے قاعدگیوں پر ٹیسٹ دوبارہ کرایا گیا،ہم اس معاملے میں اب مداخلت نہیں کر سکتے،آپ سے ہمدردی ہے لیکن فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں، دوران سماعت طالب علم نے عدالت میں کہاکہ میرے ٹیسٹ میں کوئی غلطی ثابت ہوئی تو مجھے پھانسی دی جائے، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کو ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں پھانسی کیوں دیں گے،آپ وقت ضائع کرنے کی بجائے اگلے سال ٹیسٹ کیلئے تیاری کرلیں،

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ایٹا نے طلبا کو تکلیف دی ان کی ناہلی کی وجہ سے ٹیسٹ دوبارہ کرانا پڑا، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ کوئی ٹیسٹ نہیں کراسکتا تو ذمے داری نہ لے،قومی المیہ ہے کہ عوام کا اداروں پر اعتماد نہیں، ایم ڈی کیٹ میں جو ہوا آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے،عدالت نے ایم ڈی کیٹ سے متعلق 35درخواستیں خارج کردیں،

ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

Leave a reply