دھاندلی کے الزام، نواز شریف کا دکھ، قومی مسائل،تجزیہ: شہزاد قریشی

0
150
qureshi

مسلم لیگ (ن) کے اصل میرکاررواں نوازشریف تھے مگر اس کاررواں میں شامل (ن) لیگ کے کسی رہنما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کی عدالت عظمیٰ میں جاکر درخواست دائر کرتا کہ نواشریف کو تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا اس کے اسباب کیا تھے؟ بھٹو کا مقدمہ پیپلزپارٹی لے کر عدالت میں گئی ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھٹو کا ٹرائل درست نہیں تھا۔ بھٹو کے عدالتی قتل ، محترمہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کا تین بار اقتدار سے علیحدہ کر دینا اس کا نقصان ملک و قوم کو جو ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نوازشریف نے استحکام پاکستان اور قوم کے سہانے مستقبل کا خواب دے کر بھاری قیمت ادا کی ۔قربانیوں کی اس داستان میں اپنے والدین سے جدائیاں اپنی شریک حیات سے نزع کے عالم میں پابند سلاسل کی کال کو لبیک کہا یہ وہ واقعات ہیں جن کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے اور اس پر ستم یہ ہے کہ اقتدار کے پجاری اقرباء اور رفقاء نے جس تیزی سے پیٹھ دکھائی وہ کہانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے میر کاررواں کی کشتی میں سوار، تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو کشتی میں سوراخ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاک فوج اور جملہ اداروں پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والے غور کریں اگر انتخابات میں دھاندلی ہوتی یا فوج دھاندلی کرتی تو کے پی کے کیا پہنچ سے دور تھی ،وہاں حکومت پی ٹی آئی کی ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی نے نشستیں حاصل کیں اگر پاک فوج اور جملہ ادارے دھاندلی کرتے تو کیا بانی پی ٹی آئی کو اتنی پذیرائی ملتی؟

سیاست چونکہ ایمانی باتوں سے دور ہے اس لئے شکوک کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ سابق ادوار میں نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھ کر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی نشستیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کروائی۔ ملک کے معاشی، سیاسی حالات کے پیش نظر اپوزیشن اگر حکومت کے ہمرکاب ہونا نہیں چاہتی تو قومی مسائل جس میں معیشت اہم ہے رخنہ اندازی نہ کرے اداروں کو متنازعہ بنانے کے عمل سے گریز کیا جائے عوام کی اکثریت مہنگائی ، بیروزگاری اور دیگر مسائل جن کا عوام کو سامنا ہے بیزار ہے۔ اپنا رخ شور شرابے کے بجائے ملک و قوم کی طرف موڑ دیا جائے

Leave a reply