زرداری صاحب، رب کے ہاں سرخرو ہونا ہے تو سود ختم کروائیں، مصطفیٰ کمال

سرکاری اور پرائیوٹ ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل کریں،وفاقی وزیر خزنہ
0
97
Mustafa Kamal

وفاقی وزیر برائے خزانہ اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے کم از کم اجرت 32 ہزار روپے رکھی گئی ہے جو ادارے اس پر عمل نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری اور پرائیوٹ ادارے کم از کم اجرت کے قانون پر عمل کریں

ان خیالات کا انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کم از کم اجرت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر کیا سرکاری اور نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم از کم اجرت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،پیپلز پارٹی کے رہنما سید آغا رفیع اللہ نے قرارداد پیش کی کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ حکومت سرکاری محکموں اور چھوٹے نجی کاروباری اداروں میں حکومت کی اعلان کردہ کم ازکم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدمات کرئے ۔وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب خان نے کہا کہ کم ازکم اجرت 32ہزار روپے ہوگئی ہے اس پر عمل کریں گے وفاق کی حد تک اس پر عمل کروائیں گے اور صوبوں سے بھی پوچھیں گے وہاں پر بھی اس پر عملدرآمد ہو رہاہے۔ اس قانون کا نفاذ سرکاری اداروں کے ساتھ پرائیویٹ اداروں پر بھی ہوتا ہے ۔قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔

خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں،وزیر قانون کا زرتاج گل سے مکالمہ
پاکستان کے آبی حقوق پر جارحیت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس زرتاج گل نے پیش کیا ۔وزیرقانون نے کہاکہ بگلیہار ڈیم کیلئے معاملہ ٹیکنیکل ایکسپرٹ کے پاس معاملہ گیا، دریائے راوی کے پانی پر استعمال کا حق بھارت کا ہے،زرتاج گل نے کہاکہ یہاں پر وزیر خارجہ کو ہونا چاہیے تاکہ مسئلے پر بات کرتے، بھارت کو ہم نے نوٹس بھجوانے تھے الٹا انہوں نے ہم بھجوادیئے، وزیر قانون نے کہا کہ خدا کیلئے کم از کم قانونی معاملات پر تو سیاست نہ کریں، حکومت کیوں بھارت کو اختیار دے گی،اس فورم پر ریکارڈ کے مطابق بات کرنی چاہیے بھارت اس ایگریمنٹ سے نکلنا چاہتا ہے تاکہ ہم پر جنگیں ہم پر مسلط کرے۔

خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا ،وزیر خزانہ
وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا، وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کس چیز پرتقریریں ہو رہی ہیں سود کے حوالے سے فیصلہ ہوچکا ہے پانچ سال کی معیاد بھی متعین ہے پچھلے سال متعدد بنک کنونشن برانچز اسلامک بینکنگ میں منتقل ہو چکی ہیں پرجوش تقریریں کس چیز پر ہو رہی ہیں اب میں اکانومی پر بات کرنا چاہتاپاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 بلین ڈالر پر جا چکے ہیں جون تک 9 سے دس بلین ڈالر تک مبادلہ کے ذخائر ہوجائیں گےہمارے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9فیصد ہے اس کو بڑھانا پڑے گاخطے میں سب سے کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی ہے ٹیکسز لوگوں کو دینے پڑیں گےیہ ٹیکسز کا کام ہمیں کرنا پڑے گاسرکاری اداروں کا خسارہ بہت بڑھ گیا ہے یہ خسارے اب ملک برداشت نہیں کر سکتا سرکاری اداروں کے حوالے سے ہمیں لائحہ عمل طے کرنا ہوگا ملک میں زراعت اور آئی ٹی پر کام کرنے کی ضرورت ہے تقسیم کار کمپنیوں میں نقصان ہورہاہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے اپوزیشن لیڈر عمرایوب ہماری اس حوالے سے راہنمائی کریں عمرایواب پاور ڈویژن کے وزیر رہے ہیں ان کو لیکیجز کا پتہ ہے،

ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں،مصطفیٰ کمال
ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سود اللہ اور اسکے رسول سے کھلی جنگ ہےیہ سود کی بنیاد پر اکانومی ہےمیں اللہ کی بات مانوں یا فنانس منسٹر کی بات مانوں،ہم دیکھ نہیں رہے، ستر سالوں میں ہمارے حالات کیا ہو گئےہم مسلسل اللہ اور اسکے رسول سے جنگ میں ہیں، انڈیا سے جنگ کرنے کے قابل نہیں ہیں ہم اور ہم اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کر رہے ہیں،2022 میں سپریم کورٹ کا آرڈر آیا کہ پانچ سال میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ ہوگاسپریم کورٹ کا ابھی تک شریعت اییلٹ بنچ نہیں بنا کسی مفتی صاحب کو یہاں لائیں جو آکے بتائے کہ یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ نہیں آج ہم منافق ہیں، آج آصف علی زرداری پاکستان کے انتہائی مضبوط ترین شخصیت ہیں آصف زرداری کنگ بھی ہیں کنگ میکر بھی ہیں زرداری صاحب سے کہتے ہوں اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے یہ اللہ اور اسکے رسول سے جنگ ختم کروائیں ،آج زرداری صاحب یہ کریں تو کل وہ اللہ کے سامنے سرخرو ہونگے،

قومی اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تحریک ایوان میں پیش کی اور کہا کہ بلوچستان صرف رقبے کے لحاظ سے نہیں پسماندگی کے اعتبار سے بھی سب سے بڑا صوبہ ہے،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں خواتین کے لئے بہت سے اقدامات ہوئے، بی آئی ایس پی قانونی حیثیت رکھتا ہے، 9.3 ملین خاندانوں کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے،پروگرام کی خوبصورتی یہ ہے کہ خاتون کو خاندان کا سربراہ ظاہر کیا جاتا ہے، بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے اور ہیومن کیپٹل کی تعمیر کی ضرورت ہے،ہم اپنی ترجیحات کو درست کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے،

Leave a reply