رانا ثنا اللہ کا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

0
30
rana sanaullah

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

باغی ٹی وی : ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے عمرانی فتنے کا آلہ کار بن کر 4 سالہ پرانے مقدمے کے ریکارڈ میں جعل سازی کی اور حقائق جان بوجھ کر چھپاکر عدالت سے دھوکا دہی اور گمراہ کرکے وارنٹ حاصل کیے۔

خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال تشویشناک ہے، ایبسلوٹلی نو لا اینڈ آرڈر ان خیبر پختونخوا،خواجہ…


ترجمان کا کہنا تھاکہ اینٹی کرپشن پنجاب اسلام آباد پولیس کو وارنٹ کے ساتھ ریکارڈ فراہم نہیں کررہی جو قانونی تقاضہ ہے، یہ وفاقی حکومت پر مہم جوئی کی مذموم سازش ہے تاکہ عمرانی فتنہ ریلیف حاصل کرسکے۔


ترجمان نے بتایا کہ ریکارڈ میں جعل سازی اورعدالت کو گمراہ کرنے میں ذمہ داران افسران اوراہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

مقدمے میں جعلسازی اور دھوکہ دہی کے تمام ابتدائی ثبوت حال کرلئے گئے ہیں دھوکہ دہی، جعلسازی اور ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کرنے پر معزز عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

عمران صاحب عدالت نہیں جیل جانے کا وقت ہے،مریم اورنگزیب


ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ عدالت کا ہرصورت احترام کرتے ہیں اور انکے ہر فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،یاد رہے کہ عمرانی فتنے کے وفاق پر حملوں کے تمام سازشی ہتھکنڈوں کو ریاستی طاقت سے ناکام بنایا جائیگا۔


ترجمان کے مطابق قانون شکن، عمرانی فتنے کو نشان عبرت بنانے کیلئے کوئی کسراٹھا نہیں رکھی جائیگی عمرانی فتنے اور اسکے سہولت کاروں سے کسی بھی قسم کی کوئی رعائت نہیں برتی جائیگی۔

خیال رہے کہ اینٹی کرپشن عدالت نے رانا ثنا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اینٹی کرپشن پنجاب کےلئے وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری مشکل بن گئی۔ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم سینئر سول جج راولپنڈی کے حکم پر رانا ثنا اللہ کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کےلئے ایک بار پھرتھانہ سیکرٹریٹ پہنچی تھی لیکن مایوسی ہوئی۔

پی آئی اے کی فروخت؟ خواجہ سعد رفیق نے اعلان کر دیا

ٹیم کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے وارنٹ کی تعمیل نہیں کرائی نہ کوئی تعاون کیا۔ عدالت کوآج کی کارروائی سے متعلق کل آگاہ کرینگے۔

محکمہ اینٹی کرپشن کے افسر نے میڈیا سے گفتگو میں پولیس کے نامناسب رویے کی شکایت کی کہا تھا کہ تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم اور گاڑیوں کو تھانے سے باہر نکلوا دیا۔

اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم کے الزامات کے جواب میں اسلام آباد پولیس نے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ تھانے میں باقاعدہ وارنٹ گرفتاری وصول کئے گئے۔ ٹیم کی آمد و روانگی کا اندراج بھی کیا گیا اینٹی کرپشن پنجاب نے ریکارڈ دینے سے انکارکیا۔ ٹیم کو ہدایت کی گئی کہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق قانونی راستہ اختیار کریں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد پولیس تمام عدالتوں کے احکامات کی تعمیل کے لئے ہروقت حاضر ہے۔ قانونی ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آڈیو لیکس، عمران خان کا عدالت جانے کا اعلان

ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب قانونی معاملات کو قانونی طریقے سے حل کریں۔غلط بیانات سے اداروں کے درمیان انتظامی امور میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔غلط بیانی پر اسلام آباد کیپٹل پولیس قانونی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔

قبل ازیں رانا ثنا اللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سےمتعلق راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج غلام اکبرنے سماعت کی تھی دوران سماعت اینٹی کرپشن پنجاب کے حکام نے بتایا تھاکہ راناثنااللہ نے جان بوجھ کر خود کو چھپالیا ہے۔انہیں اشتہاری قراردے کرتوہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ راناثنااللہ کی گرفتاری کیلئے کوشش جاری رکھی جائیں۔

Leave a reply