سابق چیف جج رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

0
117

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے رانا شمیم کے بیان حلفی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، رانا شمیم کے وکیل بیماری کے باعث پیش نہ ہوئے عدالت نے رانا شمیم کے وکیل کی آج التوا کی درخواست منظورکرلی اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ رانا شمیم کو بیان حلفی جمع کرانے کے ہدایت کی جائے-

وزیر اعظم نے اسٹیٹ بنک کی طرف سے ملک کے پہلے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کا اجراء کر دیا

رانا شمیم سے اپنے دفاع میں گواہان کی فہرست بھی لی جائے، بیان حلفی اور گواہان کی فہرست مل جائے تو آئندہ سماعت پر کارروئی آگے بڑھے گی۔

عدالت نے رانا شمیم کو آئندہ سماعت سے پہلے اٹارنی جنرل کو بیان حلفی کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا پرفردم جرم عائد کی تھی عدالت نے رانا شمیم کی دونوں متفرق درخواستیں خارج کردیں تھیں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی بھی سائل آ کراس طرح عدالت کی بے توقیری کرے۔

پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

دوران سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے فرد جرم پڑھ کر سنائی کہ رانا شمیم نے برطانیہ میں بیان حلفی ریکارڈ کرایا۔ بقول ان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارچھٹیوں پر گلگت بلتستان آئے۔ انہوں نے ہدایات دیں کہ نوازشریف اور مریم نواز الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے چاہئیں چیف جسٹس نے استفسار کہ کیا تھا آپ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں رانا شمیم نے کہا تھا کہ وہ چارجز کا جواب تحریری طور پر دیں گے، میرے وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد ہونا میرے ساتھ زیادتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم خاموش رہے تو سائلین کا اعتماد اس عدالت سے مزید متزلزل ہوجائے گا ہمارے ججز اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ساکھ پر سوالات اٹھیں یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا یہ کس طرح کا بیانیہ ہے کہ اس عدالت ججز کمپرومائزڈ ہیں۔

عمران خان میری سیاسی ملاقاتوں سے نہیں ملکی تباہی سے خوفزدہ ہیں، شہبازشریف

اٹارنی جنرل نے استدعا کی تھی میڈیا نمائندوں پر فرد جرم عائد نہ کی جائے صحافیوں نے دبے الفاظ میں ہی صحیح پر اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے ائندہ سب جوڈیس معاملات میں مزید احتیاط کی جائے گی عدالت نے فرد جرم کی کاروائی موخر کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ اگر بعد ازاں کوئی بدنیتی سامنے ائی تو کاروائی عمل میں لائی جائے گی، عدالت نے رانا شمیم کی جانب سے دائر انکوائری اور پراسیکیوٹر کی تبدیلی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی تھی-

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق جج رانا شمیم کا کہنا تھا کہ میرے وکیل ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں اور مجھے اکیلا دیکھ کر فرد جرم عائد کی گئی میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے کیونکہ قصور ان کا تھا جنہوں نے چھاپا اور فرد جرم مجھ پر عائد کر دی گئی۔جس صحافی نے خبر شائع کی اس کو معاف کر دیا گیا اور انصار عباسی نے خبر شائع کرنے سے قبل مجھ سے پوچھا تھا لیکن میں نے جواب دیا کہ جب تک بیان حلفی سامنے نہ ہو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

انہوں نے کہا تھا کہ فرد جرم عائد ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ بیان حلفی سربمہر تھا معلوم نہیں کیسے پبلک ہوا۔ فرد جرم سے مراد کسی کو سزا دینا مقصود نہیں ہوتا۔ اب عدالت میں کیس چلے گا تو پھر دیکھیں گے۔

Leave a reply