سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کا اجلاس یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
سینیٹ کمیٹی میں پی آئی اے کی نجکاری اور ملازمین کی تنخواہوں میں عدم اضافہ کے خلاف جاری احتجاج پر غور کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کمیٹی اجلاس میں زور دے کر کہا کہ ملازمین کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے کسی بھی قسم کا احتجاج کرنے کا حق ہے، رضا ربانی نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے ملازمین کے خلاف ایف آئی آر واپس لی جائے۔ قائمہ کمیٹی اجلاس میں پی آئی اے کے سی ای او عامر حیات کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ملازمین سے بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے پی آئی اے کو ملازمین کی شکایات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہدایت کی۔
قائمہ کمیٹی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک ریٹائرڈ ملازم حسیب کی جانب سے عوامی درخواست پر بھی غور کیا جس میں شکایت کی گئی تھی کہ سی اے اے نے 2014 سے پنشن میں اضافہ نہیں کیا ،درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سی اے اے ملازمین کی تنخواہ اور پنشن رولز کے مطابق 2014 میں یا اس سے قبل ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن پر ہر تین سال بعد نظر ثانی کی جائے گی ،قائمہ کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو اس کا کنوینر نامزد کیا ،
کمیٹی اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر سامان کی ہینڈلنگ میں تاخیر کا معاملہ اجاگر کیا۔ سی اے اے حکام نے آگاہ کیا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق سامان کی کلیئرنس میں 40 سے 45 منٹ کا وقت درکار ہے، تاہم، تاخیر بنیادی طور پر پری کسٹم اسکیننگ، سامان کا بھاری بوجھ اور ہوائی اڈے پررش کی وجہ سے ہوئی، سول ایوی ایشن اتھارٹی گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور تاخیر سے بچنے کے لیے جی ایچ اے کے خلاف تعزیری کارروائی بھی کر رہی ہے۔ کمیٹی نے سی اے اے کو ہدایت کی کہ وہ جی ایچ اے کے عملے کی تفصیلات کے ساتھ اگلی میٹنگ میں سامان کی ہینڈلنگ میں درپیش مسائل کے ساتھ تفصیلات فراہم کرے۔
پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے
سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی
اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان
پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ