fbpx

قابلِ تجدید توانائی ہی پاکستان کا مستقبل ہے:وزیراعظم

اسلام آباد:قابلِ تجدید توانائی کے استعمال سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔ شمسی توانائی منصوبوں کے حوالے سے کل ایک پری بڈنگ (Pre-Bidding) کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو گی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور متبادل توانائی کا استعمال کرتے ہوئے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے درآمدی بل کا بڑا حصہ بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگا ایندھن درآمد کرنے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی جانب بڑھیں تاکہ قیمتی زرِ مبادلہ بچ سکے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ شمسی توانائی منصوبوں کے حوالے سے کل ایک پری بڈنگ (Pre-Bidding) کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار آج اسلام آباد میں ایک چینی کمپنی Zonergy کے ایک وفد سے ملاقات میں کیا۔ وفد کی صدرات ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور صدر Zonergy Corporationجناب Richard J. Guo نے کی .وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست ہیں۔ چین نے ہر داخلی اور خارجی محاز پر پاکستان کی حمایت کی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری، جو کہ چین کے وسیع تر منصوبے Belt and Road Initiative کاحصہ ہے ,کے ذریعے چین پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، صنعت اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے قائداعظم سولر پاور بہاولپور کا 300 میگاواٹ کا منصوبہ ریکارڈ مدت میں پورا کیا تھا اور ہماری آئندہ بھی یہی کوشش رہے گی کہ ہم قابلِ تجدید توانائی خصوصاً سولر , وِنڈ انرجی کے حوالے سے سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔

ملاقات میں وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ چوہدری سالک حسین، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی جناب احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر جہانزیب خان، جناب ظفرالدین محمود اور جناب فہد حسین نے شرکت کی۔ زانرجی کارپوریشن کی جانب سے وزیراعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے ایک خطیر رقم کا چیک بھی عطیہ کیا گیا ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔