fbpx

روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

ماسکو:روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی 90 ٹن وزنی کھیپ یوکرائن کے دارالحکومت میں پہنچادی ہے جبکہ روس نے بھی جنگ کے لیے صف بندی شروع کردی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق روس امریکی مذاکرات کی ناکام کے بعد یوکرائن تنازع شدت اختیار کرگیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں جبکہ یوکرائن بارڈر پر نیٹو کی فوجی تنصیبات کا عمل بھی جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق روس نے بھی سرحد کے قریب اپنی فوج کی صف بندی کرنا شروع کردی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے یوکرائن کو دی جانے والی مہلک ہتھیاروں کی پہلی کھیپ وہاں پہنچ گئی ہے۔

یوکرائن میں قائم امریکی سفارتخانے نے کھیپ وصول کرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔

واضح رہے کہ روس بارہا یہ باور کراچکا ہے اس کا یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم وہ اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے دسمبر میں یوکرائن کے لئے 200 ملین ڈالرز سیکیورٹی پیکج کی منظوری دی تھی۔

دوسری جانب برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

روس کی جانب سے برطانوی دعوے کی تردید بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ فضول باتیں پھیلانے سے گریز کرے۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم دفترخارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فضول باتیں پھیلانا بند کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران مزید بڑھا رہی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی سیکرٹری خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ جو معلومات جاری کی گئی ہیں وہ روسی منصوبے کو آشکار کرتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ یوکرائن کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جس سے روس کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں روسی فوجی مداخلت ایک بڑی اسٹریجک غلطی ہوگی جس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی، روس کشیدگی کو کم کرے اور اپنی جارحیت کو ترک کرکے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔