صدر لاھور چیمبر کا ذخیرہ اندوزی کے ارڈیننس پر تحفظات کا اظہار.

0
35

صدر لاھور چیمبر عرفان اقبال شیخ، ذخیرہ اندوزی کے ارڈیننس پر تحفظات کا اظہار کردیا. حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے سخت رویہ ہے. ارڈیننس جاری کردیا مگر مشاورت کی گئی اور نہ اعتماد میں لیا گیا، کاروباری برادری میں تشویش ہے. رائس پولٹری سیڈ اور فوڈ انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے، ایس او پیز کو مشاورت کے ساتھ طے کیا
جائے اور ارڈیننس کے اطلاق پر احتیاط برتی جائے.

رائس کی ڈھائی بلین کی انڈسٹری ہے. پچہتر فیصد ایکسپورٹ کیا جاتا ہے. چاول کی ملک میں سات ملین میں سے پانچ ملین رائس ایکسپورٹ ہوتا ہے،چاول کی ڈومیسٹک کھپت کم ہوگی ہے.

چوہدری فرخام کا کعھنا ہے کہ پولٹری سیکٹر15 لاکھ کو روزگار فراہم کررہی ہے. کورونا وائرس کی وجہ سے 45 فیصد کھپت اور کاروبار میں فرق پڑا ہے.40 سے 45 فیصد شیڈ بند پڑے ہیں،پچاس فیصد کاسٹ سے کم پر بچنے پر مجبور ہیں. انڈہ اور مرغی بھی ذخیرہ اندوزی ارڈنیس میں شامل کرلیا گیا ہے،انڈہ اور مرغی کو ذخیرہ اندوزی کے ارڈنیس سے استشنی دیا جائے ۔ ایران اور افغانستان انڈہ اور مرغی ایکسپورٹ سے پابندی اٹھائی جائے ۔

سیڈ انڈسٹری
ساڑھے آٹھ ملین ایکٹر کاٹن لگانے کے لیے سیڈ نہیں ہے.حکومت ملک کو قحط سالی کی طرف لیکر جارہی ہے .آج گندم۔کا سیڈ پروکیور نہ ہونے دیا تو اگلے سال گندم کی فصل متاثر ہوگی ،جو دو ملین ایکٹر گندم لگتی ہے وہ اگلے سال ایک ملین ایکٹر بھی نہیں لگے گی ۔۔

عرفان قیصر شیخ کا کہنہ تھا کہ ایس او پیز طے نہیں ہوتے معاملات خراب ہونگے. میان اسلم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں. پہلے ہی مشکلات ہیں.41 شعبہ جات اس سے متاثر ہورہے ہیں. قانون بنانے سے پہلے مشاورت کرنی چاہیے.

Leave a reply