شوہر نے اپنی بیوی پر ہی تیزاب پھینک دیا

واقعے کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا
0
51
crime

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں خاتون پر تیزاب پھینک دیا گیا، خاتون کو زخمی حالت میں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تو خاتون کا شوہر ہی ملوث نکلا، واقعہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیش آیا، پولیس حکام کے مطابق خاتون پر تیزاب پھینکنے والا ملزم اس کا شوہر ہے جس کو گرفتار کر لیا گیا ہے واقعہ ابتدائی طور پر غیرت کے نام پر حملے کا شاخسانہ لگتا ہے جائے وقوعہ اور اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز حاصل کر لی گئی ہیں واقعےکو مکان مالک اور کرائے دار کے جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے واقعے کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے

کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

دوسری جانب کاہنہ پولیس لاہور نے خاتون پر تیزاب پھینکنے والے ملزم رزاق کو گرفتار کر لیا۔کاہنہ پولیس نے بروقت کارروائی کی۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ آصف کو شادی سے انکار پر اس کے دوست رزاق نے 25 سالہ تہمینہ پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ملزم نے والدین کی غیر موجودگی میں گھر آکر خاتون پر تیزاب پھینکا۔ تیزاب سے خاتون کا بازو اور جسم جھلس گیا۔ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

دوسری جانب رحیم یار خان تھانہ صدر صادق آباد کی حدود میں تیزاب گردی کا واقع ،ڈی پی او رحیم یار خان کا واقع کا سخت نوٹس پولیس نے واقع کا مقدمہ درج کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو تحویل میں لے لیا ،واقع کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ صدر صادق آباد پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ، ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم نوید نے رشتہ کے تنازع پر وقاص وغیرہ 5 کس پر تیزاب پھینک کر فرار ہوگیا۔۔ جس سے وقاص ، ممتاز، اللہ دتہ ،نسرین بی بی، اور زاہدہ بی بی معمولی زخمی ہوئے ۔پولیس نے متاثرین کو علاج معالجہ کے لئیے فوری ہسپتال منتقل کردیا جنکی حالت خطرے سے باہر ہے ، پولیس نے واقع کا مقدمہ درج کر کے ملزم کو ٹریس کر کے تحویل میں لے لیا مزید کاروائی جاری ہے ۔ م

Leave a reply