fbpx

سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

پانچویں صدی ہجری بمطابق گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوق سردار طغرل بیگ نے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ سلطنت خراسان مارواءالنہر بلاد شام ایران عراق اور ایشیائے کوچک کے علاقوں پر مشتمل تھی اس سلطنت کا پہلا دارالحکومت ایران کا قدیم شہر رے تھا بعد ازاں عراق کا شہر بغداد میں منتقل کر دیا گیا

اسی دوران خراسان مارواءالنہر بلاد شام اور ایشیائے کوچک میں چھوٹی چھوٹی سلجوق سلطنتیں وجود میں آئی جو ایران اور عراق میں سلجوقی سلطان کے تابع تھی

سلجوقیوں نے بغداد کی عباسی خلافت اور اسکے مذہب اہل السنت والجماعت کی بھرپور مدد کی۔ یہ سلطنت ایک طرف ایران وعراق میں شیعہ بوہیمی اور دوسری طرف مصروشام میں عبیدی اثرونفوذ کے درمیان گھری زوال کے قریب پہنچ چکی تھی۔ سلجوقی سردار طغرل بیگ نے 447ھ میں بغداد کے اندر بوہیمی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور تمام شورشوں پر قابو پا لیا اور رافضیوں کے شیخ ابو عبداللہ الجلاب کو رفض میں غلو کی وجہ سے قتل کر دیا ۔

طغرل بیگ جب ایک فاتح کی حیثیت سے عباسی خلافت کے دارالحکومت میں داخل ہوا تو خلیفہ قائم بامر اللہ نے اسکا شاندار استقبال کیا اسکو بےشمار قیمتی تحائف دئیے اسکے نام کا سکہ جاری کیا اسکو بےشمار القابات سے نوازا جا میں سلطان رکن الدین طغرل بیگ بھی شامل تھا اسکے نام کا خطبہ مسجدوں میں پڑھنے کا حکم دیا۔ خلیفہ کی اس قدر عزت افزائی کی وجہ سے سلجوقیوں کو پوری دنیا میں بےشمار قدر ومنزلت حاصل ہوئی اب وہ بغداد میں بوہیمیوں کی جگہ پر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ خلیفہ انکے ہر مشورے کو بطیب خاطر قبول کرتا تھا اور انکی عزت کرتا تھا

8 رمضان المبارک 454 ھ بمطابق 1062 ء کو 70 سال کی عمر میں طغرل بیگ کا انتقال ہو گیا۔ اپنی وفات سے پہلے طغرل بیگ نے خراسان ، ایران اور عراق کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے ہاتھ سے سلجوقی اقتدار اور غلبہ کا کام مکمل کر چکے تھے۔

جاری ہے…..

دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ