احساس پروگرام کو سب سے بڑا گھپلا قرار دینے پرثانیہ نشتر اور شہباز گل کا سلیم صافی کو جواب،اسی جھوٹ کا توذکرمولانا طارق جمیل نے کیا

 احساس پروگرام کو سب سے بڑا گھپلا قرار دینے پرثانیہ نشتر اور شہباز گل کا سلیم صافی کو جواب،اسی جھوٹ کا توذکرمولانا طارق جمیل نے کیا،تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان کے نامور صحافی سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے احساس پروگرام کو پاکستان کا سب سے بڑا گھپلا قرار دیتے ہوئے ٹویٹ کیا اور کہاں کے جتنے اس پروگرام میں جنوبی وزیرستان کے مستحقین نہ ہونے کے برابر ہیں۔

 

 

سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ” ‏احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا گھپلا بنتا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی بے انصافی ملاحظہ کیجئے کہ وزیراعلی کےسوات ضلع میں 99 ہزار مستحقین دکھاکر 86 ہزار پانچ سو کو ادائیگی کی گئی ہےلیکن جنوبی وزیرستان ضلع میں صرف اٹھارہ افراد مستحق قرار پائےجن میں صرف 3 کو ادائیگی کی گئی”

 

دوسری جانب صحافی سلیم صافی کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ” ‏یہ سکرینیں احساس ایمرجنسی کیش انفارمیشن پورٹل کی ہیں جو کہ شفافیت کے پیش نظر شائع کیا گیا ہے۔ 8171 سکیم میںCategory-1 اور Category-2کی امداد 2010 کے سروے کی بنیاد پر دی جا رہی ہے۔2010 میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن عامہ نہ ہونے کی وجہ سے سروے نہیں ہوا تھا”

 

 

ایک دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ” ‏احساس ایمرجنسی کیش کی Category 3 میں وزیرستان کا حصہ آبادی کے لحاظ سے ہے۔ 8171 سکیم کے تحت شمالی وزیرستان سے 61,164 اور جنوبی وزیرستان سے62,499 ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں۔ جانچ پڑتال جاری ہے”

 

 

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ” ‏برائے Category-3 تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کا حصہ آبادی کے لحاظ سے رکھا گیا ہے اور مستحقین کی نشاندہی NADRA کے Data Analytics کےذریعے کی جا رہی ہے۔ Category-3 میں رقم کی ترسیل اگلے ہفتے شروع ہوگی”

 

انکا اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھنا تھا کہ ” ‏احساس ایمرجنسی کیش میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کے اس پروگرام میں شفافیت ہماری اولین ترجیح ہے”

دوسری جانب ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا ساتھ دیتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت ڈاکٹر شہباز گل نے سلیم صافی کو جواب دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ "‏سلیم صافی صاحب یہ وہ جھوٹ اور غلط بیانی تھی جس کا مولانا طارق جمیل نے اشارہ کیا تھا۔جیسا کہ ثانیہ نشتر صاحبہ نے اعدادو شمار سے آپ کی اس غلط بیانی اور ناجائز بہتان بازی کا پول کھول دیا-امید کرتے ہیں کہ اگر یہ غیر دانستہ ہوئی تو اس پر معافی مانگ لیں گے۔لیکن اگر دانستہ تو ڈے رہئیے”

ایک دوسرے ٹویٹ میں انہوں لکھا کہ ” ‏سنئیر جرنلسٹز کی رائے: آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی پر جھوٹا الزام لگائیں۔احساس کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر چلاتی ہیں جن کی ایمانداری فرض شناسی کی دنیا گواہ ہے۔ہمیں ان پر ناز ہے۔آپ نے پروگرام پر جھوٹا الزام لگایا۔امید ہے سینئر جرنلسٹز کی جو ڈیمانڈ مولانا سے تھی وہی اب آپ سے ہو گی”

شہباز گل نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ” ‏میں تمام سینئر اینکر صاحبان سے پر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ آج شام کے پروگرامز میں اس بات پر بحث کی جائے جیسا مولانا کہ معاملہ میں کی-مولانا کی تو جنرل سٹیٹمنٹ تھی۔دوسروں کی دل آزاری ہوئی انہوں نے معزرت کر کے بڑے پن کا ثبوت دیا۔صافی صاحب نے تو صاف جھوٹ بولا-اب آپکے انصاف کو دیکھیں گے”

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.