ورلڈ ہیڈر ایڈ

سمیع ابراہیم کو تھپڑ، ملک بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج، فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹانے کا مطالبہ

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فوادی چوہدری کی جانب سے سینئر صحافی و اینکر سمیع ابراہیم کو فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب میں تھپڑ مارنے کے خلاف ملک بھر کی صحافتی تنظیموں اور صحافی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ صحافتی تنظیمیں جلد اس حوالہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی اور اس سلسلہ میں احتجاج کی کال دیے جانے کی بھی توقع ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن ایمرا کے صدرشوکت علی، نائب صدر ریاض اعوان،سیکرٹری عدنان شیخ ، جوائنٹ سیکرٹری افضال سعیداورخزانچی و سیکرٹری انفارمیشن عباس نقوی سمیت گورننگ باڈی کے دیگر اراکین نے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدی کی جانب سے سینئر صحافی سمیع ابراہیم کے ساتھ بدتمیزی اور مارپیٹ کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر ایمرا شوکت علی نے کہا کہ فواد چوہدری سوشل میڈیا پر سمیع ابراہیم کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کرتے رہے اور اب انھوں نے ایک تقریب میں سمیع ابراہیم کے ساتھ مارپیٹ کی جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لے کر کارروائی کرنی چاہیے بصورت دیگر صحافی برادری اس واقعہ کے خلاف اپنا لائحہ عمل طے کرے گی ۔ ایمرا باڈی نے سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو اپنی مکمل سپورٹ اور حمایت کا یقین دلایا ہے۔

سمیع ابراہیم کو تھپڑپڑا تو فردوس عاشق نے کی معذرت،صحافیوں کی مذمت

رپورٹ کے مطابق الیکٹرونک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن ( ایمرا ) کے دوسرے گروپ کے صدرمحمد آصف بٹ نے فیصل آبادشادی کی تقریب میں وفاقی وزیر فواد چودھری کی جانب سے بول نیوز چینل کے سینئر اینکر سمیع ابراہیم کو تلخ کلامی کے بعد تھپڑ مارنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان فوری طور پر فواد چودھری کو وزارت سے ہٹائے اور اس مذموم حرکت پر انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔

تبدیلی سرکار یا تھپڑوں والی سرکار،فواد چودھری کا سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی اطلاعات

صحافیوں کی ایک اور تنظیم ایمپرا کی جانب سے بھی سینئر صحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ایمپرا کے ترجمان اذان ملک نے اس واقعہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایمرا اور ایمپرا کی طرح دیگر صحافتی تنظیموں اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اس واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس سلسلہ میں احتجاج کی کال بھی متوقع ہے۔

واضح رہے کہ فواد چوہدری اور سمیع ابراہیم کا سوشل میڈیا پر کافی دنوں سے تنازعہ چل رہا تھا۔ سمیع ابراہیم نے اپنے ذرائع سے خبر دی تھی کہ فواد چوہدری پیپلز پارٹی کے رابطہ میں ہیں اور تحریک انصاف کے اندر گروپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس خبر کے  بعد سے فواد چوہدری کی جانب سے سوشل میڈیا پر سمیع ابراہیم کے خلاف انتہائی نازیبا اور سخت بیان بازی کی جارہی تھی۔ گزشتہ روز شادی کی تقریب میں سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارے جانے کی وہاں موجود تمام مہمانوں اور سینئر صحافیوں نے شدید مذمت کی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بعض مہمانوں سے فواد چوہدری کو وہاں سے فوری نکل جانے کا کہا جس پر وہ اسی وقت شادی کی تقریب سے باہر نکل گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.