سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل کیا ہے رمشا خان

ڈرمہ سیریل’گھسی پٹی محبت’ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ رمشہ خان کا کہنا ہے کہ سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل بھی کیا اور اب کسی کو منع کرتے ہوئے یا اپنے دل کی بات کہتے ہوئے اتنا ڈر نہیں لگتا۔

باغی ٹی وی : ڈراما ‘گھسی پٹی محبت’ گزشتہ ماہ جنوری میں اختتام کو پہنچا تھا جس میں ایک ایسی خاتون کو دکھایا گیا ہے جو کئی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد اپنی زندگی میں کامیاب ہوتی ہے جبکہ اس کی 3 شادیاں ناکام ہوچکی ہوتی ہیں اس ڈرامے میں ٹرانس جینڈرز، ہراسانی اور لڑکیوں کی شادی سے جڑے دیگر سماجی مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں ڈرامے میں’سامعہ’ کا مرکزی کردار ادا کرنے والی رمشہ خان نے کہا کہ انہیں کردار کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی خدشہ نہیں تھا اور کہا گیا تھا کہ معاشرے میں اس طرح کے معاملات کے بارے میں بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ مجھے کہا گیا تھا کہ یہ ایک تجربہ ہے تو آپ دیکھ لیں جب پہلی مرتبہ میں نے سامعہ کا کردار پڑھا تو اچھا محسوس ہوا اور میں نے کم از کم اتنا اچھا ڈراما ٹی وی پر نہیں دیکھا اس لیے میرے ذہن میں صرف یہ تھا کہ اس ڈرامے کا حصہ بننا ہے-

رمشہ خان نے کہا کہ جب معلوم ہوا کہ یہ ڈراما حقیقی زندگی کی کہانی ہے تو میرے دل میں اس خاتون کے لیے عزت بڑھی کہ اتنا کچھ جھیلنے کے بعد میرے لیے تو وہ ایک شیرنی ہیں اور میں ڈرامے کے لکھاری سے کہوں گی کہ اس خاتون سے ملوائیں’۔

رمشہ خان نے کہا کہ سامعہ کے کردار نے مجھے کافی تبدیل بھی کیا اور اب کسی کو منع کرتے ہوئے یا اپنے دل کی بات کہتے ہوئے اتنا ڈر نہیں لگتا۔

اداکارہ نے مزید کہا کہ ‘پہلے میں کچھ ڈپلومیٹک ہوتی تھی اور اب کافی منہ پھٹ ہوگئی ہوں بلکہ میں اپنے گھر والوں کو بدتمیز لگنے لگی ہوں لیکن سب سے بڑھ کر اب مجھے کوئی قدم اٹھانے سے کچھ کہنے سے ڈر نہیں لگتا۔

سامعہ کے کردار کے لیے لکھاری کی جانب سے اداکارہ سجل علی کو بھی ذہن میں رکھنے سے متعلق رمشہ خان کا کہنا تھا کہ اگر سجل علی یہ کردار کرتیں تو مجھ سے بہتر کرتیں اور اگر وہ کرتیں تو یہ ڈراما بہت بڑا ہو جاتا، میں سجل سے خود کا موازنہ نہیں کرسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ڈرامے میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں کیونکہ سامعہ کا کردار صرف ادا نہیں کیا بلکہ اسے خود جیا ہے۔

گھسی پٹی محبت‘ آخری قسط کے بعد ٹوئٹر پر نمبر ون ٹرینڈ رہا اس پذیرائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہوگا اس کے لیے وہ عوام کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔

ڈراما ‘کیسا ہے نصیباں’ میں تشدد کی شکار عورت اور ‘گھسی پٹی محبت’ میں ایک مضبوط کردار سے متعلق انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کردار اپنی اپنی جگہ سماجی پیغام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘کیسا ہے نصیباں’ میں تشدد ہے لیکن میرا مقصد لوگوں کو گھریلو تشدد کے بارے میں آگاہ کرنا تھا اور اس کی کڑی سے کڑی سزا ہونی چاہیے۔

رمشہ خان نے کہا کہ اپنے کیریئر کی ابتدا میں منفی کردار بھی ادا کیے اور وہ اب بھی اب بھی ایسے کردار کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ ان کا اگلا ڈراما کچھ فلمی طرز کا ہے اور تھوڑا رومانوی اور مزاحیہ ہے، خیال رہے کہ وہ اس ڈرامے میں عفان وحید کے ساتھ اداکاری کریں گی-

ارطغرل غازی ڈرامے سے متاثر ہو کر 60 سالہ امریکی خاتون نے اسلام قبول کر لیا

براک اوباما اور ان کی اہلیہ کی کمپنی کا پاکستانی ناول نگار کے ناول پر فلم بنانے کا…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.