fbpx

سرگودھا پولیس کی نفری میں کمی کے باعث اہلکاران کو مشکلات کا سامنا ۔

سرگودھا پولیس ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خان کی قیادت میں دن رات اپنے فراٸض ادا کر رہی ھے ۔ سرگودھا پولیس میں نفری کم ہونے کی وجہ پولیس اہلکاران نیند پوری کرنے سے بھی قاصر ۔ پولیس اہلکاران دن رات ڈیوٹی کے باعث نہ تو اپنی فیملیز کو ٹاٸم دے پاتے ھیں ۔ اور نہ ہی نیند پوری کر پاتے ھیں ۔ جس کی وجہ سے پولیس جوانوں کے لہجے سخت ہو رھے ھیں ۔ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ آج کل گنا سیزن ، کرشنگ سیزن ، اعلیٰ حکام کے احکامات کی بدولت سرگودھا پولیس دن رات سروس کر رہی ھے ۔ اور زیادہ تر اہلکار ریٹاٸرڈ بھی ہو چکے ھیں ۔ نفری کی کمی ھے ۔ اور زیادہ تر سیٹیں بھی خالی پڑی ھیں ۔ ایک ایک اہلکار کو 18 اٹھارہ گھنٹے لگاتار ڈیوٹی دینی پڑتی ھے ۔ موجودہ انگریز کے قانون پہ عمل درآمد تو ہو رہا ھے ۔ لیکن پولیس نفری بڑھانے کے فارمولا پہ عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا ۔ ذراٸع کے مطابق اس وقت سرگودھا پولیس کو 14 ہزار 400 ملازمان کی ضرورت ھے ۔ جبکہ ڈیوٹی کیلیٸے پولیس کے پاس 2500 ملازم موجود ھیں ۔ اور ایکٹیو فیلڈ میں ایک ہزار کے قریب ملازم ڈیوٹی سرانجام دے رھے ھیں ۔ اس وقت سرگودھا میں کراٸم روکنے کیلیٸے 14 ہزار کی بجاٸے ایک ہزار پولیس اہلکار ایکٹیو ڈیوٹی سرانجام دے رھے ھیں ۔ اس طرح نہ تو کراٸم پہ کنٹرول ہو سکے گا ۔ نہ ہی انسدادی کارواٸیاں ہو پاٸیں گی ۔ اور نہ ہی پولیس کا ردعمل تبدیل ہو سکے گا ۔ اگر تمام ڈیوٹیاں احسن طریقہ سے پوری کرنی ھیں ۔ تو سرگودھا پولیس کی نفری کو بڑھایا جاٸے ۔ تاکہ سرگودھا پولیس کی نفری پوری ہو سکے ۔ اور صحیح معنوں میں تھانہ کلچر میں تبدیلی آ سکے ۔ عوامی سماجی حلقوں نے آٸی جی پنجاب پولیس ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان سے ازخود نوٹس لیتے ہوٸے سرگودھا پولیس کی نفری پوری کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔