بحر احمر میں سعودی ولی عہد شہزادہ کے نئے پراجکٹ لگژری”کورل بلوم“ کا افتتاح:کام بھی شروع

ریاض: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بحیرہ احمر میں واقع ایک جزیرے میں ’کورل بلوم‘ کے نام سے ایک نئے لگڑری منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ولی عہد کے زیر قیادت بحیرہ احمر ترقیاتی کمپنی (ٹی آر ایس ڈی سی)اس جزیرے کو ترقی دے گی اور شریرہ اور اس کے گیارہ ریزارٹس میں ہوٹل اور تفریح گاہیں بنائے گی۔ان سب کو ” کورل بلوم“ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) جان پاگانو کا کہنا ہے کہ ”بحیرہ احمر کا یہ منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد ایک دل کش منظر پیش کرے گا اور یہاں آنے والے غیرملکی سیاح ایک منفرد دلچسپ تجربے سے لطف اندوز ہوں گے۔کورل بلوم کے ڈیزائن میں سعودی عرب کے منفرد اور شاندار سرسبزو شاداب اور قدرتی ماحول کو پیش نظر رکھاگیا ہے۔“اس کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس جزیرے میں گیارہ ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ ’بعد ازکروناوائرس دنیا‘ کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور یہ جزیرے کے چاروں کونوں میں بنائے جائیں گے۔

اربوں ڈالر کے اس منصوبے کے تحت ڈالفن کی شکل کے اس جزیرے میں نئی بیچز بنائی جائیں گی اور ایک نئی مصنوعی جھیل بھی ہوگی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ”بحیرہ احمر کا یہ ترقیاتی منصوبہ پہلے ہی کئی ایک سنگ میل عبورکرچکا ہے۔اس منصوبے کے طے شدہ اہداف کے عین مطابق کام جاری ہے۔توقع ہے کہ یہاں 2022 کے آخر میں پہلے مہمان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔تب بین الاقوامی ہوائی اڈے اور چارہوٹلوں کو افتتاح کے بعد استعمال کے لیے کھول دیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں باقی 12 ہوٹل 2023 میں لوگوں کے لیے کھول دیے جائیں گے۔بیان میں بحیرہ احمر کے اس منصوبے کی مزید تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ یہ 2030 میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا، یہ 50 تفریحی مقامات پر مشتمل ہوگا۔

اس میں ہوٹلوں کے 8000 تک کمرے ہوں گے اور22 جزائر اور 6 زمینی جگہوں پر قریباً 1300 اقامتی جائیدادیں ہوں گی۔اس میں لگڑری میرینا، گالف کورس اور مختلف تفریح گاہیں بھی ہوں گی۔ان تمام منصوبوں اور تعمیرات میں سعودی عرب کے قدرتی ماحول کے مختلف رنگوں کو نہ صرف اجاگر کیا گیا ہے بلکہ ان کا تحفظ بھی کیا گیا ہے اور یہاں ماحول دوست قابل تجدید توانائی کو استعمال کیا جائے گا۔یہ جدت اور فطرت کا حسین امتزاج ہوگا۔

واضح رہے کہ بحیرہ احمر کا یہ منصوبہ بھی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویڑن 2030 کا حصہ ہے۔اس کا مقصد سعودی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل کی دولت پرانحصار کم کرنا ہے۔اس کے تحت دیگر مختلف شعبوں کی طرح سعودی سیاحت کو ترقی دی جاری ہے اور تاریخی مقامات کو قابل دید سیاحتی مراکزمیں تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ دنیا بھر سے سیاح ان کی سیاحت کے لیے آئیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.