fbpx

سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

چند دن قبل سے اب تک سوشل میڈیا پر ایک ہی نام چھایا ہوا ہے جو ہے ،ام حرم عربی میں ام کے مطلب ہیں ماں اور حریم کا مطلب ہے قابل احترام،( خانہ کعبہ کی چار دیواری کو بھی کہتے ہیں) یعنی کہ قابل احترام کی ماں
آزادی اظہار رائے کا ہر کسی کو قانونی،اخلاقی حق حاصل ہے

راقم جنوری 2011 سے سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور اللہ کو گواہ بنا کر بتا رہا ہے کہ ان 11 سالوں میں ایک ہزار کہ لگ بھگ فیسبک اکاؤنٹس بلاک ہوئے جس کی وجہ تھی لفظ جہاد،حافظ س عید،ل شکر ط یبہ و کشمیر ایک ایک دن میں بعض مرتبہ پانچ پانچ بار اکاؤنٹ اڑے

خیر جب جب نیا اکاؤنٹ بنایا فیسبک نے نیا اکاؤنٹ بنتے ہی ایک ہی آئی پی ایڈریس ہونے کے باعث گزشتہ فرینڈز کو خود ہی ریکوسٹ بھیجیں ان میں ام حریم بھی شامل ہےام حریم نے 2016 میں فیسبک جوائن کیا اور تاحال ساتھ ایڈ ہے-کئی بار ان سے بحث و مباحثہ بھی ہوا جس میں خاص ٹاپک تھا کسی بھی فرد کی اسقدر چاپلوسی کرنا اور اس سے اتنی امیدیں رکھنا اور منہج سلف سے حکمران کی اسقدر تعریف کرنا جائز ہے کہ ناجائزجی ہاں یہ سب باتیں ام حریم سے ہوتی تھیں وہ اس لئے کہ ام حریم ایک بلا کی یوتھیہ عورت تھی-

حسب سابق کی طرح اس بار بھی لکھ رہا ہوں کہ جھوٹ بولنے اور لکھنے والے پر اللہ کی لعنت ہوام حریم ایک خاص یوتھئیہ تھی ہاں یہ ایک خاص بات نوٹ کی کہ ام حریم نے کبھی بھی ن لیگ کی حمایت نہیں کی اور نا ہی ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے والی کسی بھی جماعت یا فرد کو سپورٹ کیا- 2018 میں ام حریم عمرہ کرنے گئی تو اس نے عمران خان کے لئے حرم میں دعا کی کہ اللہ تو اس سے اپنے دین کا کام لے کر اسے کامیابی سے ہمکنار فرما جس پر اس نے پوسٹ بھی لگائی تھی ،قابل غور بات ہے کہ ابھی وہی عورت عمران خان کو بری لگی کیونکہ وہ عورت پہلے ایک محب وطن اور موٹیویشنل لکھاری بھی ہے-

چند روز قبل عمران خان صاحب نے ٹی وی پر خطاب کے دوران ام حریم بارے اظہار نارضگی کیا کیونکہ ام حریم نے گزشتہ دنوں فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل کی کاپی کرکے دو ملین ڈالرز پی ٹی آئی کو ملنے کا تذکرہ کیا تھا اور اپنی وال پر پوسٹ لگائی تھی- حیرت کی بات ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی ام حریم پی ٹی آئی سے برآت کرچکی تھی اور پہلے کی طرح آرٹیکلز لکھ رہی تھی جس کی سمجھ آتی ہے کہ ام حریم ایک محب وطن بھی ہے

مذید حیرت کی بات یہ کہ اتنے سالوں پی ٹی آئی کے حق میں دن رات ایک کرکے لکھنے والی ام حریم کو کسی نے آج دن تک نا جانا نا پہچانا اور نہ ہی اسکا نام سنا مگر ایک تنقید کرتے ہی عمران خان ٹیلیویژن پر آکر ام حریم کا تذکرہ کر رہا ہے- کمال ہے بھئی یہ تو وہ بات ہوئی کہ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ یعنی جب تک ام حریم پی ٹی آئی کی سپورٹر رہی تب تک جائز تھا جب اس نے تنقید کی تب ناجائز ہو گیا؟عمران خان کے اس خطاب سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ عمران خان صاحب عوامی مسائل پر بہت دور تک نظر رکھتے ہیں اور خان صاحب کو لمحہ با لمحہ اپڈیٹ کیا جاتا ہے مگر حیرت کی بات ہے جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی تب خان صاحب کہاں تھے؟جب قوم نے ڈاکٹر عبد القدیر رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں خان صاحب کی شرکت نا کرنے پر رنج کیا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟ جب واقعہ ساہیوال ہوا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟جب ڈاکوؤں لٹیروں کے ہاتھوں قوم لٹ رہی تھی اور انصاف کیلئے آوازیں دی جا رہی تھیں تب عمران خان صاحب کہاں تھے؟جب بلیک مارکیٹنگ مافیا اب موجودہ حکومت کی طرح خان صاحب کے دور حکومت میں بھی بے لگام تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟کیا خان صاحب بس اپنی تنقید پر ہی قوم سے رابطہ فرماتے ہیں؟خان صاحب پاکستان کی بیٹی ام حریم سوال تو کرے گی –

یہ تو ایک ام حریم ہے یہاں پوری قوم آپ سے سوال کر رہی ہے کہ خان اپنے دور حکومت کا حساب دیجئے اور بلا وجہ لوگوں کو پٹواری ،جیالہ اور پالشی کہنا بند کیجئے کوئی کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت کے بغیر محب وطن شہری بھی ہو سکتا ہے سو خان صاحب پاس کر یاں برداشت کر-