سزائے موت کا ایک اور قیدی بیمار،عدالت جا پہنچا،دوران سماعت چیف جسٹس نے کیا کہا؟

0
31

سزائے موت کا ایک اور قیدی بیمار،عدالت جا پہنچا،دوران سماعت چیف جسٹس نے کیا کہا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جیل میں قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ایک اور سزائے موت کے قیدی جاوید اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا،وزارت انسانی حقوق کا نمائندہ احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی.

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو بااثر قیدی ہے اس کو جیل کی بہتر سہولیات دی جاتی ہیں، کچھ حقائق ہیں جنہیں ریاست نے ہی دور کرنا ہے،

قیدی جاوید اقبال اور خادم حسین کی درخواستوں پر سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی گئی.

نوازشریف 2 دن میں چلے گئے،ایک قیدی 6 سال سے واپس نہیں لا سکے، سیکرٹری داخلہ،خارجہ کو جیل بھیجوں گا، عدالت

اڈیالہ جیل کے قیدی خادم حسین نےچیف جسٹس ہائیکورٹ کوخط لکھا تھا .چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو لکھے گئے خط میں قیدی نے کہا کہ بینائی کا مسئلہ ہے،آنکھوں کےعلاج کی سہولت دی جائے،- عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے جواب طلب کررکھا ہے ،عدالت نے پورے ملک سے بیمار قیدیوں کاریکارڈ طلب کرلیا

نواز کے لندن جانے کے بعد دیگرقیدیوں کی بھی سن لی گئی، وزیراعظم کا بڑا حکم،

یاد رہے لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی ، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو علاج کےغرض سے 4 ہفتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں جیلوں میں 10 ہزار بیمار قیدیوں نے طبی بنیاد پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نوازشریف کی طرح بیمار قیدیوں کو طبی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے درخواست چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجوا دی تھی اورچیف سیکریٹری پنجاب کو درخواست پر فیصلے کی ہدایت کی تھی، عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں 10 ہزارسے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

Leave a reply