اسکول بند ہونے سے دوسرے ممالک کی طرح سہولیات فراہم کرنے کی طاقت ہے؟۔تحریر : حمیداللہ شاہین

0
35

بدقسمتی سے پاکستان میں کرونا مرحلے کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی اداروں کو بھی تباہی کی طرف گامزن کردیا۔ 26 فروری 2020 کو کراچی میں جب پہلا معاملہ سامنے آیا، تھوڑے ہی عرصے میں یہ پورے ملک میں پھیل گیا جس نے معمولات زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبوں کو بھی لاک ڈاؤن میں گھسیٹنا شروع کردیا۔
کیا طلباء اسکول واپس جائیں گے؟؟؟۔۔
ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اداروں کی طویل اور پیچھے سے بندش کے بعد طلبہ کا مطالعہ بہت متاثر ہوا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیل چکا ہے، اس لئے حکومت نے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں پر بھی لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔ تعلیمی ادارے بند ہونے سے اور بچوں کے اسکول نہ جانے سے شرع خواندگی میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ 2019 میں ہماری خواندگی کی شرح 60٪ تھی لیکن 2020 میں اس نے 2٪ کم کرکے 58٪ تک پہنچا دیا۔ اگر مزید ہم نے اسی طرح کا کام جاری رکھا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ان طویل وقفوں سے بہت سارے طلبا کی دلچسپی ختم ہوگئی۔ پہلے وقفے میں کئی بچوں نے اپنی تعلیم چھوڑ دی، تیسری لہر میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے۔

جب بھی ان سے وجہ پوچھی گئی کہ انہوں نے تعلیم کیوں چھوڑ دی؟، جواب ملتا کہ ہر دو تین ماہ بعد ہمیں طویل وقفے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ہم اس فعل سے بیمار ہوگئے۔
اسی طرح بہت سارے دوسرے طلباء بھی اسی مصائب کا شکار ہیں۔ اس سے ہمارے ڈراپ آؤٹ تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس سے انکار نہیں کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کو بے حد قبولیت حاصل ہے۔ اسکول تقریبا سارا سال بند رہتے تھے اور اب گرمیوں کی تعطیلات کے بہانے بہت سارے دوسرے اسکولوں کی چھٹی جاری رہتی ہے۔
کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بندش کے دوران طلباء کو آن لائن کلاسوں کی طرف بڑھا دیا گیا جو کسی بھی موقع سے قابل قبول نہیں تھے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ بہت بڑا پہلا مسئلہ تھا کیونکہ ملک کے متعدد حصوں میں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی تو دور کی بات موبائل کے سگنلز بھی نہیں آتے، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے علاوہ آن لائن لرننگ سسٹم میں دیگر بہت ساری خرابیاں ہیں۔
طلباء اساتذہ سے روبرو بات چیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور اس مواد پر توجہ مرکوز نہیں کرسکتے ہیں جو اساتذہ فراہم کرتا ہے۔
دوم زیادہ تر طلبا ڈیجیٹائزڈ نہیں ہیں اور ان کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فونز نہیں ہیں۔ حکومت نے تو وائرس سے کھل کر مقابلہ کیا لیکن تعلیم کے شعبے میں بھی کچھ دیکھنے کو ملا، یونیورسٹی سطح کے طلباء پر خاصی توجہ دی گئی اور ان کے لئے آن لائن کلاسز جاری کیں لیکن تقریبا 40٪ طلبا پرائمری سیکشن میں ہیں، وہ ان سہولیات سے محروم ہوگئے؟۔ اور پھر بڑے شہروں کے یونیورسٹیاں تو آن لائن کلاسز دے سکتی ہیں لیکن چھوٹے شہروں اور قصبوں میں یہ ممکن نہیں۔
ان وقفوں کے مہلک نتائج تعلیم، طالب علم اور اساتذہ پہ اثر اندا ہوئے ہیں۔ دوسرے ممالک نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے مختلف طریقوں کی تجاویز پیش کی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
تاہم اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند تو کردئے گئے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بات چیت کو محدود کرے۔ لیکن اس کے باوجود عوام نے ایس او پیز کا خیال نہ رکھتے ہوئے باہر نکلتے رہے اور مواصلات، اجتماعات سیر و تفریح ویسے ہی تھے جیسے پہلے تھے۔

احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور اپنی صحت کو بچانا واقعی بہت اچھا ہے لیکن ہمیں اپنی تعلیم کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔
حکومت کو ان طویل وقفوں کو ختم کرنا چاہئے اور ان کو جاری رکھنے کے لئے تعلیمی اداروں میں ایک نئی بڑی اور بہتر تبدیلی لانا چاہئے۔
پاکستان کے کئی علاقوں میں سہولیات کے فقدان کی مثالیں موجود ہیں، میرا تعلق چونکہ بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے، اس لئے پہلے اگر یہاں کی بات کی جائے تو اس میں کوئی شق نہیں کہ پرائیویٹ اسکول نے دھڑادھڑ پیسے کمائے، والدین پر اسکول بند ہونے کے باوجود فیس بھرنے کی زور دی گئی، یہاں پر شہر میں لڑکوں کے دو ہائی اسکول، گرلز کی ایک ہائی اسکول اور ایک گرلز ڈگری کالج جبکہ ایک بوائز ڈگری کالج اور ایک بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ کی سب کیمپس ہے، لیکن پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے، 80 فیصد بچے مختلف دیہی علاقوں سے آکر شہر میں پڑھتے ہیں اور یہاں پہ 30 فیصد سے کم لوگوں کو انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں تو موبائل کے سگنلز تک نہیں آرہے اور پھر دیہی علاقوں میں 18 جبکہ شہر میں 12 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہونے کے بعد صرف ایک پرائیویٹ اسکول نے آن لائن کلاسیں دینا شروع کیں جوکہ دیہی علاقوں انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور بجلی کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بند کردی گئی۔
حکومت پاکستان بالخصوص حکومت بلوچستان کو صوبہ بھر میں تعلیم کے شعبے پر زور دینی چاہئے، اور تعلیم کی اہمیت سمجھنے کے لیے دیہی علاقوں یا ضلعوں میں ماہانہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، تاکہ لوگوں کو اگاہی ملے اور ہر سہولت فراہم کرنے میں مدد فرمائے، اساتذہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور معیار تعلیم سکھانے پر توجہ دی جائے۔

Leave a reply