صدارتی انتخابات، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع

0
114
sadar

صدر مملکت کا انتخاب ، حکومتی اتحاد کی جانب سے آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمود اچکزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے گئے ہیں.

پیپلز پارٹی کی جانب سے پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری کے کاغذات نامزدگی وصول کیے،پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدارتی امیدوار ہوں گے ،بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے تجویز کنندہ اور فاروق ایچ نائیک تائید کنندہ ہیں۔

دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے بھی صدارتی اتنخاب کےلیے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں، رکن قومی اسمبلی، عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے محمود اچکزئی کے کاغذات جمع کروائے،اس موقع پر لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق سے مکالمہ کیا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے، اسام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چائے تو اس کے بعد بھی آپ کو پلا دیں گے، عمر ایوب اور علی محمد خان صاحب بھی اس عدالت میں پہلی بار آئے ہیں،علی محمد خان نے کہا کہ میں اس عدالت میں انصاف مانگنے آتا رہا ہوں، اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ کھوسہ صاحب آپ اپنا پورا نام کیا لکھتے ہیں؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری پارٹی اب زور دیتی ہے کہ نام کے ساتھ سردار لکھوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو نام کے ساتھ سردار ضرور لکھنا چاہیے۔

دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے صدارتی نامزد امیدوار کا اعلان کر دیا، سنی اتحاد کونسل کی جانب سے محمو دخان اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا ہے،سنی اتحاد کونسل کے اراکین محمود خان اچکزئی کو صدرکے لئے ووٹ دیں گے،محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، اب صدارتی الیکشن میں مقابلہ آصف زرداری اور محمود خان اچکزئی کے مابین ہو گا،

صدارتی انتخابات،سینیٹ کی خالی 10 نشستیں بھی اثر انداز ہوں گی، سینیٹ کی دس نشستیں خالی ہو چکی ہیں، سابق صدر آصف زرداری کو ان دس نشستوں کا نقصان ہو گا، ایم کیو ایم نے ابھی تک آصف زرداری کی حمایت نہیں کی تو وہیں پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے، جے یو آئی بھی ابھی تک کسی کی حمایت نہیں کر رہی بلکہ بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے،ایسے میں آصف زرداری کے لئے ایک ایک ووٹ قیمتی ہے،صدارتی انتخاب کے الیکٹو رل کالج میں سینیٹ کی نشستوں کی بہت اہمیت ہے کیونکہ ہر سینیٹر کا ا یک ووٹ ہوتا ہے جب کہ اسمبلیوں کا فار مولا الگ ہوتا ہے ،اگرچہ قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں اس اتحاد کی اکثر یت ہے ،

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

صدارتی انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟
صدارتی انتخابات آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے تحت کروائے جائیں گے ،چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر کا کردار نبھائیں گے ،صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ،مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ اسمبلیوں میں پولنگ میں حصہ لیں گے،کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارتی امیدوار کا تجویز اور تائید کنندہ ہو سکتا ہے ،صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت کروایا جائے گا ،نتائج مرتب کرتے وقت مجلس شوریٰ کے ہر رکن کا ووٹ شمار کیا جائے گا ،صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کا شمار فارمولے کے تحت کیا جائے گا ،امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کو سب سے چھوٹی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا ،فارمولے کے تحت بلوچستان اسمبلی کے بھی ہر رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار کیا جائے گا ،دو یا دو سے زائد امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے پر قرعہ اندازی کی جائے گی

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخابات کے لیے قومی اسمبلی سینیٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے ۔قومی اسمبلی سینیٹ ارکان کے ووٹ کے لیے قومی اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے پنجاب اسمبلی میں پریزائیڈنگ افسر ممبر کمشن ون الیکشن کمیشن آف پاکستان ہوں گے سندھ اسمبلی میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،بلوچستان اسمبلی میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ہوں گے،دلچسپ بات یہ ہے کہ تین صوبوں اور وفاق میں چیف جسٹسز پریزائیڈنگ افسر ہوں گے جبکہ پنجاب اسمبلی میں ممبر الیکشن کمشن ون کو پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے.

 اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

صدر عارف علوی کی 5 سالہ آئینی مدت 8 ستمبر 2023 کو ختم ہو چکی ہے تاہم ملک میں نگران سیٹ اپ ہونے کی وجہ سے عارف علوی صدر پاکستان کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور آئین کے مطابق الیکشن ہونے کے ایک ماہ تک صدر اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں،آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، اسکے بعد اب 9 مارچ کو صدارتی انتخابات متوقع ہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری صدر کے امیدوار ہیں، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتیں آصف زرداری کی حمایت کریں گی

Comments are closed.