fbpx

سندھ حکومت کی ایک اور سازش،کے ایم سی کے مختلف شعبہ جات پر قبضے کے نئے منصوبوں پر عملدرآمد۔

سندھ حکومت کی ایک اور سازش ،کے ایم سی کے مختلف شعبہ جات پر قبضے کے نئے منصوبوں پر عملدرآمد۔
بلدیہ عظمی کراچی کے آمدن دن بدن بڑھانے، وسائل نچلی سطع پر منتقل کے بجائے صوبائی حکومت نے قبضہ کا منصوبہ پرعملدآمدشروع کردیا ہے،مالی اور انتظامی اختیارات چھینے کے ساتھ ساتھ نئے سرے سے ملازمتوں پر بھرتیاں کرنے کی توقع ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کی نگرانی میں ایک ایک ادارہ سپرد کرنے کا ہدف دیدیا گیا اس ضمن میں KMCکا ایک ادارہ کراچی اسٹی سٹیویٹ ہارڈز ڈیزاٹ اسپتال کا کنٹرول محکمہ صحت کے حوالے اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، سوبھراج اسپتال، گذرا آباد اسپتال، گذری اسپتال کے ساتھ پانچ دیگر زیر تعمیر اسپتالز بھی محکمہ صحت کے سپرد کیا جائے گا نیپاچورنگی پر تعمیر ہونے والے اسپتال پر پہلے
ہی سندھ حکومت کا بورڈآویزاں کردیا گیا ہے KMCکا سب سے بڑا عباسی شہید اسپتال بھی حوالے کرنے کی دو رائے موجود ہے ایک حوالے اوردوسرا خراب صورتحال پرسپرد نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد کی ایما پر کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بھی آئینی اور قابونی بحران پیدا کرکے تردیسی اور انتظامی عمل معطل ہونے کا جواز بناکر KMDCکو صوبائی حکومت کے حوالے کیا جانے کا منصوبہ تیار ہوچکا ہے جلد اس پر بھی عملد آمد کیا جائے گاایسی طرح ہاکس بے میں 6.63ایکٹر اراضی سندھ گورٹمنٹ کے پبلک پارنٹر شپ یونٹ کے سپرد کردیا گیا ہے جہاں نجی ادارے کو مہنگے داموں میں فروخت کیا جانے کا منصوبہ عملدآمدکے لیے تیز ہوگیاہے ایک طرف قیمتی اراضی سندھ حکومت کے سپرد، اوردوسرے جانب KMC کو آمدن سے محروم کیا جارہا ہے، یہ اراضی پیپلز پارٹی کی 1995ء کو مہران فشریز ڈیپارٹمنٹ کو الاٹ کی گئی تھی تاحال زمین خالی ہے، اور تعمیرات نہ ہوسکی،ہاکس بے میں نئے منصوبہ سے قبل ہٹس کی آمدن KMCکو بند کردی گئی ہے تمام ہٹس کی اراضی کی توسیع نہیں کرنے دیا جارہی ہے،شہید بے نظیر پارک KDAکے سپرد کردیا گیا، ابن قاسم پارک کلفٹن، جھیل پارک، چڑیا گھر، سفاری پارکس، اسپورٹس کمپلیکس کے بعض حصوں کو بھی پبلک پارنٹر شپ کے نام پر حوالے کیا جائیگا، کلفٹن کی مچھلی گھر کی تعمیرات کے بعد نجی ادارہ کے سپرد کرنے کا منصوبہ بنا لیاہے کراچی کے سب سے بڑے تجارتی بنیاد پر چلنے والا الددین پارک کی توسیع یا نیلامی کا فیصلہ بھی صوبائی حکومت کریے گی، گڈنی ہلز پارک، سمیت دیگر بھی نگرانی صوبائی حکومت کے سپرد مراحلے وار کی جائے گی۔ KMC کے آمدن میں جارجڈ پارکنگ میں من پسند ٹھیکہ دار کو دینے سے آمدن کم ہونے کی توقع ہے، یوٹیلیٹی ٹیکس کے نام پر آمدن صرف17کروڑ روپے تک محدود ہوگیی ہے، ٹیکس ادائیگی کرنے والے صرف35ہزار سے تجاوز نہیں کرسکے۔ چڑیا گھر، سفاری پارک کی بد انتظامی کے باعث آمدن دن بدن کم ہورہی ہے، وٹرنری ڈیپارٹمنٹ میں آمدنی بڑھانے کے بجائے انتہائی کم ہوچکی ہے،میٹ اور چکن کے دکانداروں کا لائنس بھی فوڈ ڈیپارٹمنٹنے نےاپنے قبضے میں لے لیا ہے، ٹال ٹیکس، لنک روڈ پر ٹیکس فیس کی وصولی پر پہلے ہی DMCملیر نے قبضہ کررکھاہے، کئی بکرا منڈی کی آمدن بھی DMCکے زبردستی اور غیر قانونی قبضے میں ہے، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے بعض شعبہ جات کو پہلے ہی صوبائی حکومت نے KDAاور صوبائی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کردیا گیا ہے، انفارمیشن ٹکنالوجی، فوڈ ڈیپارٹمنٹ، انٹرپرائزاینڈ پروموشن، وٹرنری، اسپورٹس کلچر،سٹیٹ، سمیت دیگر شعبہ جات کے بعص حصوں کی آمدن پرسندھ حکومت پہلے ہیقبضہ جماچکی ہے۔مصدق ذرائع کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد نے KMCکے تما م ڈیپارٹمنٹ کو ادارے کے وسائل بڑھانے او ر انتہائی خراب صورتحال رکھنے والے اداروں کی تجاوز تیارکرنے کی ہدایت کی ہے وہ جلد وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کے دوران KMCکے بارے میں چند فیصلے کریں گےتاہم KMCکے ایک سنینئر افسر کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ سے ملاقات کے دوران مختلف اداروں کے شعبہ جات اور بعض حصوں کو سندھ حکومت کے سپرد کیا جانےکا منصوبہ پیش کریں گے اور اس کی منظوری حاصل کی جائے گی قبل ازیں وزیر اعلی سندھ کے ایک اجلاس میں KMCکے مالی و انتظامی اختیارات کم کرنے اور آمدن بڑھانے پر زور دیا گیا تھاواضح رہے کہ KMCکی آمد ن کم ہونے اور اکٹرئے ٹیکس میں ملنے والی امداد میں کمی کے باعث 14ہزار سے زائد ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنز کی ادائیگی بروقت ہون میں اصل رکاوٹ سندھ حکومت ہے، اور ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے اب تک واجبات ساڑھے چار ارب روپے پہنچ چکے ہیں۔سندھ حکومت سندھ ہائی کورٹ کے ٖفیصلے پر عملدآمد نہیں کررہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.