سندھ کے حکمرانوں کو ججز بھی وہ نہیں چاہیے جو ان کے خلاف فیصلے کرے،حلیم عادل شیخ

0
25

کراچی قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے انستداد دہشتگردی کی عدالت کلفٹن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا سندھ کے جھوٹے حکمران معاشی دہشتگرد ہیں مجھے سیاسی دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہے میں عدالتںوں میں جارہا ہوں اپنا کیس لڑ رہا ہوں۔ سندھ کے حکمرانوں کو اپوزیشن لیڈر بھی وہ نہیں چاہیے جو ان کو بے نقاب کرے۔اب ان کو ججز بھی وہ نہیں چاہیے جو ان کے خلاف فیصلے کرے۔عدالتوں کے فیصلے بولتے ہیں ہمیں عدالتوں پر یقین ہے۔سندھ میں میونسپل کے اداروں کو پی پی کے ایم پی ایز کو ٹھیکوں پر دیا گیا ہے۔ سندھ کا بلدیاتی نظام ٹھیکیداری سسٹم پر چل رہا ہے۔پی پی کے اراکین اپنے لوگ لگوا کر مال کھاتے ہیں۔جسٹس گورڑ صاحب نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ جس حلقے میں کتے کے کاٹنے کا کیس ہو وہاں کے ایم پی ایز کو معطل کیا جائے۔یہ ایک اچھا فیصلہ ہے سندھ کی عوام کتوں کے ظلم کا شکار ہے۔اگر عدالت کہتے ہے تو ایسے اراکین کو ہٹایا جائے تو اب کہتے ہیں جسٹس بھی نہ کھپے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بھی بولنے والا نہ ہو۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں ان کو بے نقاب کرتا ہوں کرتا رہوں گا۔ ہمارے دو سو سے زائد لوگوں کو کیس میں دہشتگرد بنا دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن بھی جانبدار ہے۔ ڈسکہ میں اگر کچھ ہوتا ہے تو وہاں فورن ایکشن ہوتا ہے گھوٹکی میں پولیس کے ذریعے دھاندھلی ہورہی تھی کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ سندھ میں الیکشن کمیشن کے سربراھ پی پی کے جانبدار بنے ہوئے ہیں۔گھوٹکی کا کیس بھی مجھ پر ڈالا گیا ہے۔ اچانک عرصہ کے بعد کیس کو ظاہر کر کے مجھے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اسی الیکشن کی مہم بلاول زرداری ، مراد علی شاہ سمیت پی پی کی پوری کابینہ نے چلائی تھی لیکن الیکشن کمیشں نے کوئی نوٹس نہیں لیا نہ ان پر کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ملیر 88 الیکشن میں میں اپنا ووٹ ڈالنے گیا تھا مجھے ووٹ سے روک کر ناانصافی کی گئی۔ میں باہر آکر الیکشن کمیشن پر بھی کیس کروں گا۔ ان کرپٹ لوگوں کو بےنقاب کرتا رہوں گا۔

Leave a reply