fbpx

سندھ میں انٹر کے امتحانات، فزکس کا پیپر لیک

اس ماہ کے شروع میں میٹرک کے امتحانات کے دوران جب سے میڈیا رپورٹس میں سوالیہ پرچے لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے سندھ میں بورڈ کے امتحانات صوبے میں مروجہ ‘کاپی کلچر’ کی وجہ سے ملک کے باقی حصوں کے لیے مضحکہ خیز بنے ہوئے ہیں جبکہ امتحانات کے دوران پابندیوں کے اعلان کے باوجود موبائل فون، گائیڈ بُکس اور پرچیوں کی مدد سے نقل اور چیٹنگ کا عمل جاری ہے۔

دھوکہ دہی کے کلچر کے پیچھے سرگرم مجرموں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے اپنے دعوؤں کے باوجود بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سندھ صوبے میں دھوکہ دہی مافیا پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز صوبے میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے پہلے روز ہی چیٹنگ اور پیپر لیک ہونے کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے۔

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میٹرک کے امتحانات کے دوران بھی طلباء اور اساتذہ کے موبائل فونز اور پیپرز کے استعمال سمیت غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔

پیر کے روز اندرون سندھ سے پیپر لیک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جہاں محراب پور اور نواب شاہ میں قائم کئے گئے امتحانی مراکز میں امتحانی عملے کی موجودگی میں موبائل فون اور گائیڈز کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ فزکس کا پیپر مبینہ طور پر امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی لیک ہوگیا تھا۔

فزکس کا سوالیہ پیپر امتحان کے وقت سے پہلے ہی میرپورخاص، سانگھڑ، محراب پور، نواب شاہ ، تھری میر واہ اور شہید بینظیر آباد میں سوشل میڈیا پر گردش کرہا تھا، جبکہ انتظامیہ نے اس لیک کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

تاہم بورڈ کی ٹیموں نے متعدد امتحانی مراکز پر چھاپے مارے جنہوں نے موبائل فونز ضبط کیے جو امتحانات کے دوران چیٹنگ اور نقل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سکھر بورڈ نے چیٹنگ کی روک تھام کے لیے 21 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ امتحانی ہالوں اور اس کے آس پاس دفعہ 144 نافذ کی جائے