گلوکارہ میشا شفیع کےخلاف ایک ارب روپے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت،عدالت نے 28 ستمبرکوطلب کرلیا

لاہور: گلوکارہ میشا شفیع کےخلاف ایک ارب روپے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت،عدالت نے 28 ستمبرکوطلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق گلوکارہ میشا شفیع اور اس کے گواہوں کے خلاف معروف گلوکارعلی ظفر کی طرف سے ایک ارب روپے ہتک عزت کے کیس کے سلسلے میں عدالت کی طرف سے سخت پیغام پہنچا دیا گیا ہے،

ذرائع کے مطابق گلوکار علی ظفر کے ذریعہ دائر ایک ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت کے لئے پیر28 ستمبر 2020 کو عدالت نے انہیں طلب کیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد یاسر حیات نے اس ہفتے کیس کی سماعت دوبارہ شروع کردی لیکن میشا شفیع کے سینئر وکیل اور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ایک جونیئر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ محترمہ شفیع کا وکیل اسلام آباد تھا اور اس سے التوا کا مطالبہ کیا گیا۔

 

ذرائع کے مطابق اس موقع پرگلوکار علی ظفر کے وکیل نے یہ اعتراض اٹھایا کہ مدعا علیہان کے چار گواہان (یعنی میشا شفیع ، اس کی والدہ صبا حمید ، منیجر فرحان علی اور اداکارہ افضت عمر)بار بارعدالتی نوٹس کے پیش نہیں ہورہے ،اس پر عدالت نے میشا کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اگلی تاریخ یعنی 28 ستمبر کو مذکورہ چار گواہوں کو پیش کریں۔

ذرائع کے مطابق یہ ہتک عزت کادعویٰ گلوکار علی ظفر نے دو سال قبل جون 2018 میں میشا کے خلاف دائر کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع نےہراساں کرنے کا جھوٹا الزام لگا کر اس کی ساکھ خراب کردی عدالت علی ظفر اور اس کے 11 گواہوں کے ثبوت پہلے ہی درج کرچکی ہے۔

ایک ٹویٹ میں علی ظفر کے وکیل بیرسٹر امبرین قریشی نے کہا کہ "میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ آخر کار مہینوں بعد عدالت میں دوبارہ شروع ہوا۔ تاہم ، مدعا علیہ کی جانب سے کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔ اورمختلف ذرائع کے ذریعہ ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.