fbpx

صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس: سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی

اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک وکیل لاہور سے ایک عدالت میں دلائل دے رہا ہے دونوں وکلاء کی خاتون موکلہ صوفیہ مرزا بھی بار بار مداخلت کر رہی ہے۔

جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پہلے فیصلہ کر لیں دلائل کون دے گا، جس فیصلہ کو جوازبنا کر توہین عدالت کی درخواست کی اس پر عمک ہو چکا ہے جبکہ وزیر اعظم نے سمری پر دستخط کردئیے ہیں۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے واضح کیا کہ بچوں کی واپسی کیلئے پوری حکومتی مشینری ہل گئی ہےاوروزارت ِخارجہ بچوں کے یو اے ای سے واپسی کے معاملے پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔

بعدازاں عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہر 15 دن بعد بچیوں کی واپسی سے متعلق پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 29جون 2022 کو ایک خبر سامنے آئی تھی کہ جڑواں بیٹیوں کی حوالگی کا مطالبہ کرنے والی اداکارہ صوفیہ مرزا نے رضا مندی سے بچیاں سابق شوہر کے حوالے کیں تھی شیخ عمر فاروق اور صوفیہ مرزا کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی بھی منظر عام پر آئی تھی، سابق شوہر کا کہنا تھا کہ بچیوں کی حوالگی کیلئے صوفیہ مرزا کو 50 لاکھ روپے ادا کئے تھے۔ دوسری طرف عمر فاروق نے ریڈ وارنٹس اور مقدمات ختم کرنے کیلئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو خط لکھا تھا.

اس سے قبل اداکارہ صوفیہ مرزا کی جانب سے شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر اپنے سابق شوہر عمر فاروق کیخلاف مقدمات بنانے کا انکشاف ہوا تھا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بچیوں کی حوالگی سے متعلق معاملے پر ہر حد تک جانے کا اعلان کیا تھا۔