fbpx

10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا

واشنگٹن :10 ارب ڈالر مالیت کی خلائی دوربین جیمز ویب نے اہم سنگ میل عبور کرلیا،اطلاعات ہیں کہ کرسمس کے موقع پر خلا میں جانےوالی 10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس نے دو ہفتوں پرمحیط ڈیپلائمنٹ کا پیچیدہ مرحلہ عبور کرلیا ہے۔اوراب سائنسدانوں نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ کامیابیوں اور انقلاب کا ایک نیا دور شروع ہوگیا ہے

اس حوالے سے خلائی ادارے ناسا نے اپنی ٹوئٹ میں جیمز ویب کے خلائی میدان میں اہم سنگ میل طےکرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہ ’ کامیاب ڈیپلائمنٹ کے بعد جیمز ویب نے اپنا آخری شیشہ کھول دیا ہے جس سے 50 ڈیپلائمنٹس اور 178 پنز کی ریلیز کا مرحلہ طے ہوگیا ہے۔‘

جیمز ویب اپنے سونے کے پانی چڑھے پھول کی پتیوں جیسے عظیم الجثہ شیشوں کے ساڑھے 6 میٹر طویل آخری شیشے کو مکمل طور پر کھول کر کائناتی تاریخ کے ہر مرحلے کو ریکارڈ کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔

 

ناسا کی اس ٹوئٹ کے بعد ریاست میری لینڈ میں قائم اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ کے انجینئرز کی ٹیم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جیمز ویب میں اب تک لانچ ہونے والی سب سے بڑے اور حساس شیشے لگائے گئے ہیں جنہیں ’ گولڈن آئی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

جسامت میں بہت بڑی ہونے کی وجہ سے اس ٹیلی اسکوپ کو اوریگامی طرز پر راکٹ میں فٹ کیا گیا تھا، جب کہ سورج کی شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے اس میں ایک حفاظتی شیلڈ دی گئی ہے جو کہ مستقل طور پر ٹیلی اسکوپ، سورج، چاند اور زمین کے درمیان حائل رہے گی۔

10 ارب ڈالر مالیت کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین کی سطح سے لاکھوں میل دوری پر شمسی مدار میں گردش کرے گی۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے زیادہ طاقت ور جیمز ویب 13 ارب 70 کروڑ سال قبل تشکیل پانے والے اولین ستاروں اور کہکشاؤں سے متعلق معلومات جمع کرے گی۔

جیمز ویب اسپیس کو زمین سے 340 ملین میل دوری پر موجود خلائی دوربین ہبل کا پیش رو سمجھا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ جیمز ویب اسپیس کی تیاری 30 سال قبل شروع کی گئی تھی۔ اس وقت اس پراجیکٹ کے لیے ناسا نے 500 ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا۔ جیمز ویب کو 2007 میں خلائی سفر پر روانہ کرنا تھا تاہم کچھ تیکنیکی خامیوں کی بنیاد پر اس کی لانچنگ ملتوی ہوتی رہی۔

جیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 کو فرنچ گیوآناخلائی مرکزسے راکٹ آریانے 5 کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا تھا۔۔