fbpx

سری لنکا کےصدرگوتابایا راجا پاکسےمالدیپ چھوڑ کرنامعلوم مقام کی طرف چلے گئے

مالی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق اپنے ملک سے فرار ہو کر گزشتہ روز مالدیپ پہنچنے والے سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسے نجی طیارے میں سنگاپور کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس سے قبل سری لنکا کے صدر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکر کو ابھی تک ان کا استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔

دوسری جانب سری لنکا میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا۔ سری لنکا میں غیر معینہ مدت کے لیے ایمرجنسی نافذ ہے۔

سری لنکا میں بدترین معاشی بحران کے بعد حکمران اشرافیہ کے خلاف شدید احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں اور شدید معاشی بحران کے باعث عوام کو گزشتہ کئی ماہ سے بدترین لوڈشیڈنگ، ایندھن، خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہے۔

ادھر کولمبوسے آمدہ اطلاعات کے مطابق سری لنکا میں گوٹابایا راجا پکشے کے ملک چھوڑنے کے بعد مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔ مظاہرین نے کولمبو میں وزیر اعظم کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔ صورتحال کو قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر امریکی سفارت خانے نے آج اور کل کے لیے اپنی تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق راجا پکشے بدھ کو مالدیپ سے سنگاپور جائیں گے۔ اپوزیشن نے رانیل وکرماسنگھے کو نگراں صدر کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ قائد حزب اختلاف ساجیت پریماداسا نے کہا، "وزیراعظم صرف اس وقت قائم مقام صدر بنتے ہیں جب صدر ان کا تقرر کرتے ہیں، ان کا عہدہ خالی ہوتا ہے، یا چیف جسٹس اسپیکر کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کہ صدر کام کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے بغیر وزیراعظم صدر کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتے۔

سری لنکا کے نیوز وائر نے ملکی پارلیمان کے اسپیکر کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ سری لنکا کے صدر آج اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے-جب کہ نئے صدر کا انتخاب 20 جولائی کو کیا جائے گا۔

بتادیں کہ استعفیٰ دیئے بغیر صدر گوتابایا راجا پکشے ملک چھوڑ کر مالدیپ فرار ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں کولمبو میں مظاہرین نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے تشدد کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے قائم مقام صدر کی حیثیت سے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

سری لنکن میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سری لنکا کے قومی ٹی وی چینل روپواہنی کارپوریشن کی نشریات روک دی گئی ہیں۔ کولمبو میں مظاہرین کی طرف سے اس کے احاطے کا گھیراؤ کرنے کے بعد چینل نے نشریات بند کر دیں۔

ساتھ ہی مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر اور وزیر اعظم نے 13 جولائی کی شام تک اپنے استعفے جمع نہ کرائے تو وہ جمع ہو کر پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کولمبو میں ایک بار پھر مظاہروں کے پیش نظر سری لنکا کے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔