fbpx

سائبیریا میں گرے شہابِ ثاقب!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

سائبیریا میں شہابِ ثاقب!!

آج سے 114 برس قبل روس کے علاقے سائبیریا میں ایک دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ وہاں سے کئی سو میل دور تک لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ کئی جنگلی جانور ہلاک ہو گئے اور دو ہزار مربع کلومیٹر میں موجود 8 کروڑ درخت جل کر راکھ ہوگئے۔

مگر زمین سے کوئی شے نہ ٹکرائی۔ عینی شاہدین نے آسمان پر سورج سے بھی روشن ایک ہلے نیلے رنگ کی آگ برساتی گیند دیکھی اور پھر اس قدر شدید دھماکہ ہوا کہ انکے پاؤں زمین سے اُکھڑ گئے۔ یہ واقعہ 1908 میں پیش آئے۔ اس واقعے کو گزرے کئی سال بیت گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس قدر شدید دھماکہ کس شے کا تھا۔

پھر 1927 میں سوویت سائنسدانوں ں کے ایک ٹیم نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ چونکہ سائبریا بے حد وسیع و عریض ہے اور یہاں دور دور تک آبادی کم کم ہی ہوتی ہے لہذا اُس علاقے تک پہنچنا جہاں یہ دھماکہ ہوا بے حد مشکل تھا۔ سائنسدان اس تلاش میں تھے کہ اگر یہ دھماکا کسی شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہوا ہے تو ضرور زمین پر کوئی بہت بڑا گڑھا بنا ہو گا۔ مگر اّنکو مایوسی ہوئی۔ زمین پر اس علاقے میں کوئی گڑھا موجود نہیں تھا۔ اس سے کئی تھیوریوں نے جنم لیا مثال کے طور پر یہ کوئی ایلنز کی سپیس شپ تھی یا کوئی منی بلیک ہول جو زمین کے اوپر سے گزرا وغیرہ وغیرہ ۔

مگر آج سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ یہ دھماکہ شہابِ ثاقب کے گرنے سے ہی ہوا۔ فرق بس اتنا تھا کہ وہ زمین کے بے حد قریب آنے کے بعد ہی ہوا میں مکمل طور پر جل گیا۔

سائنسدان ایسا کیوں مانتے ہیں؟

دراصل اسی جیسا ایک اور واقعہ 2013 میں روس کے علاقے چیلیابنسک میں پیش آیا۔ جب ایک قدرے چھوٹا شہابِ ثاقب اسی طرح زمین کے بہت قریب آ کر فضا میں پھٹا جس سے کافی نقصان ہوا مگر زمین پر کوئی گڑھا نہیں بنا۔

اس نئے واقعے سے سائنسدانوں کو اندازہ ہوا کہ شہابِ ثاقب زمین کے بالکل قریب آ کر ہوا میں بھی تحلیل ہو سکتے ہیں۔
مزید کمپیوٹر سملولیشنز اور ماڈلز کے ذریعے اس دھماکے سے ہونے والی تباہی اور تباہ شدہ علاقے کا ڈیٹا استعمال کر کے سائنسدانوں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ چیلیابنسک میں 2013 میں گرنے والا شہابِ ثاقب دراصل کتنا بڑا تھا اور اس کے پھٹنے سے کتنی توانائی خارج ہوئی۔

تو یہ شہابِ ثاقب دراصل 19 میٹر کے سائز کی ایک چٹان تھی جس سے 550 کلوٹن کا دھماکہ ہوا۔یاد ریے ایک کلوٹن دراصل ایک ہزار ٹی این ٹی آتشگیر مادے سے ہونے والے دھماکے کی شدت ہوتی یے۔

اس واقعے کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ اس طرح کے واقعات زمین پر دوبارہ کب ہو سکتے ہیں تو زمین کے گرد اور نظامِ شمسی میں موجود شہابیوں کی تعداد سے یہ انکشاف ہوا کہ اوسطاً ہر دس سے سو سال کے درمیان ایسا ہی کوئی بڑا شہابِ ثاقب زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

لہذا ناسا اب ممکنہ طور پر زمین کو کسی شہابِ ثاقب کی تباہی سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے اور ایک ابتدائی مشن بھی بھیج چکا ہے جسکا مقصد ایک شہابئے کا رخ موڑ کر اسے زمین سے دور ہٹانا ہے۔