تبدیلی سرکار مشرف کی روایات کو لارہی ہے، بلاول زرداری

0
16

قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر پرامن کارکنوں پر حملہ کیا گیا، نہ صرف عوام بلکہ اراکین اسمبلی پر بھی حملہ کیا گیا، دو خواتین اراکین اسمبلی کو گرفتار بھی کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا،بلاول نے مزید کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے، ہم سے جھوٹ بولا جاتا ہے، یہ سیلکٹڈ جوڈیشری چاہتے ہیں، ججز کے خلاف کسی کو بتائے بغیر ریفرنس دائر کر دیے، پارلیمان کو نہیں بتایا گیا، مشرف کی روایات لا رہے ہیں، آج حکومت نے اپوزیشن کے کسی ممبر کو اسمبلی میں نہیں بولنے دیا.

اس موقع پر گزشتہ روز گرفتار ہونے والی پیپلز پارٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ ہم احتجاج کر رہے تھے ہمارے پاس ہتھیار نہیں تھے، گاڑی میں‌ ڈال کر تشدد کیا گیا کیونکہ میں صرف انفارمیشن دے رہی تھی کہ ہمئں کہاں‌لے کر جایا جا رہا ہے،پولیس نے کہا کہ ہم جیل میں‌ ڈالیں گے تو مہمانداری کا پتہ چلے گا. لوگ ہمیں چھڑانے آئے لیکن ملنے نہیں دیا گیا، میڈیکل ہوا لیکن رپورٹ ایشو نہیں کی گئی.

مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے قومی اسمبلی سے راہ فرار اختیارکی، ملک میں مسائل کے انبار ہیں، پپپلز پارٹی کے ساتھ ریاستی دہشت گردی ہوئی ، خواتین پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ، یہ صرف خواتین پر حملہ نہیں بلکہ آج اعلیٰ ترین عدلیہ پر حملہ کیا گیا، عدالتو ں کے ججز پر ریفرنس فائل کئے گئے، جج صدر سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ریفرنس دائر کئے گئے، بتایا جائے، اس لئے حکومت نے ریفرنس دائر کئے گئے کہ جج‌آزاد فیصلے نہ کر پائیں، یہ حکومت کی بدترین مثال ہے، تمام بار کونسل، اپوزیشن اکٹھے ہیں، قومی اسمبلی میں قرارداد پاس پونی تھی لیکن اجلاس ملتوی کر دیا گیا، ریفرنس واپس لیا جائے. ہم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا، رات کے اندھیرے میں ریفرنس بنتے ہیں . ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، دو مطالبات کئے تھے، چیئرمین نیب اور وزیرستان واقعہ کے حقائق سامنے لانے کے لئے،.لیکن ایک بھی پورا نہیں ہوا.

حکومتی اتحادی اختر مینگل نے کہا کہ پی پی کے ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا.،مذمت کرتا ہوں، کہنے کو ہم جمہوری ملک ہیں، جمہوریت کو چلانے کی کچھ اصول ہوتے ہیں ریفرنس کے نام پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹر کی بو نظر آ رہی ہے. ججز کے خلاف ریفرنس اچانک کہاں سے نمودار ہوئے، ایک جج کا تعلق بلوچستان سے ہے فیض آباد سے متعلق ریفرنس وجوہات تو نہیں،.جب تک یہاں کے اداروں کو اپنے دائرہ میں رہ کر کام کی اجازت نہیں دی جائے گی تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے لئے خطرہ ہے. جمہوریت کے لئے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک شخص یا پارٹی کی وجہ سے جمہوری گلدستہ کو ٹھیس پہنچے،اختر مینگل نے مزید کہا کہ میرانشاہ میں جو واقعہ ہوا اس پر پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے. تا کہ قصوروار کا فیصلہ کیا جا سکے. ہم آزاد بینچز پر بیٹھے ہوئے ہیں ہم حق کے ساتھ ہیں .

Leave a reply