معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

0
144
qureshi

بقول شاعر:
ریت پر تھک کے گرا ہوںتوہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئے وزیر خزانہ کے لئے یہ شعر ہے لیکن کیا کہا جائے ڈاکٹر کو چھوڑ کر نرس سے آپریشن کروایا جائے گاتو مریض صحت یاب نہیں ہوگا۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے تجربہ کار اسحاق ڈار کو چھوڑ کر ،ایک بینکر کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ معیشت کو مستحکم کریںگے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ایک 25 کروڑ عوام کا ملک ہے ،یہ کوئی میونسپل کمیٹی نہیں۔

اسرائیل اور ایران کو لے کر دنیا میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چین اور تائیوان ، روس ، امریکہ کے بعد مڈل ایسٹ والے ممالک بلاک بنانا چاہتے ہیں بلاشبہ پاکستان اس وقت مڈل ایسٹ اور امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اس پورے خطے میں مگر قرض کا بوجھ اتنا ہے کہ ایک بینکر کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کو معیشت مستحکم کرنے کے لئے سرمایہ کاروں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اپنے وسائل پر توجہ د ینے کی ضرورت ہے ۔ آخر میں ہم کب تک فقیروں کی طرح مانگ کر شہنشائیوں کی طرح اُڑاتے رہیں گے۔ معیشت کی مکمل بہتری کے لئے لازمی اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔ رہا سوال فلسطین ،اسرائیل جنگ اور اب ایران اسرائیل بڑھتے ہوئے جنگی ماحول اورکشمیر ،جو عالمی ادارے بنا ئے گئے تھے۔ اُن کا کردار نہ ہونے کے برار ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر ،انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اقوا م متحدہ کا نسل کشی کنونشن اور جنیوا کنونشن جنگ ان کے لکھے جانے کی ان دستاویزات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن نے روانڈا میں نسل کشی کو نہیں روکا ۔ جنیوا کنونشن ویت نامیوں کو امریکی جنگی قیدیوں کو اذیت د ینے سے نہیں روکا۔ روس ا ور یو کرائن کی جنگ کو نہیں روکا۔ جن ممالک نے ان دستاویزات پر دستخط کئے انہوں نے خود پاسداری نہیں کی۔ ان عالمی اداروںں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے آج کے دور میں اسرائیل ،فلسطین ، کشمیر، مسلمانوں کا خون سڑکوں پر بہہ رہاہے تمام اسلامی ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ تاہم پاکستان کو اپنی سرحدوں پرمزیداورشہر میں سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔

Leave a reply