fbpx

تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

تمباکو نوشی ہمیشہ اپنے دوست احبابو سے لگتی ہے۔ ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے پڑتا ہے لکھتا ہے بڑا ہوتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے اور زندگی میں اسکو کچھ ایسے دوست ملتے ہیں جو نشہ تو کرتے ہیں سب دوستوں کو بھی کہتے ہیں کہ آپ بھی کریں اور ان لوگوں کا اپنے دوستوں کو نشے پر لگانے کا بڑا ہی کوئی ایک میرا طریقہ ہوتا ہے یہ اپنے دوست کو ایسے سگریٹ نوشی اور دیگر نشو  میں پھنساتے ہیں جیسے یہ کوئی بہت ہی اچھا کام ہو شروع شروع میں وہ دوست اپنے نئے دوست کو سگریٹ بھی دیتے ہیں اور نشہ بھی دیتے ہیں آہستہ آہستہ جب اس کو اس چیز کی لت لگ جاتی ہے تو اس کو کہتے ہیں اپنے لیے بھی لے اور ہمارے لیے بھی لے آؤ کیونکہ ان کا کام صرف نشہ پینا ہوتا ہے بے شک وہ اپنے پیسوں سے پیا یا کسی اور کے پیسوں سے اب وہ لڑکا بھی مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کو نشے کی لت لگ چکی ہوتی ہے تو اپنے لیے بھی لے کر آتا ہے اور دوستوں کے لیے بھی لے کر آتا ہے آہستہ آہستہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کے گھر والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سگریٹ نوشی کرتا ہے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے والدین بچے کو ہمارے بھی صحیح روکے بھی صحیح تو لیکن وہ بچہ نہیں روک سکتا کیونکہ اس کو اس چیز کی لت لگ چکی ہوتی ہے جب والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ سگریٹ نوشی نہیں کرتے تو اس وقت ان کو اس چیز کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے لیے یہ بات صحیح ہے کیونکہ ان کو صرف اس لعت کو پورا کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کے دوستوں نے اس کو ایسا جال میں پھنسایا ہوتا ہے وہ سگریٹ نوشی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے کاش کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں۔ کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ایسی لعنت ہے جو آج کل بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے آج کل کے نوجوان کھانا کھائیں کیا نہ کھائیں سگریٹ ضرور پیتے ہیں کیونکہ وہ اس لت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ اگر وہ سگریٹ نہ پینے ہیں تو وہ کھانا بھی نہیں کھاسکتے لیکن یہں سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے اس کا ایک بہترین حل ہے والدین سیگریٹ نوشی سے خود دور رہیں جب بچے دیکھیں گے کہ ہمارے والدین سگریٹ نوشی سے دور رہتے ہیں تو وہ بھی اس چیز کے نزدیک نہیں جائیں گے کیونکہ ان کو بچپن سے ہی اس چیز کی عادت نہیں ہوگی لیکن پھر بھی ان پر نظر رکھیں کہ ان کے کوئی ایسے دوست نہ ہو جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اپنے بچوں کا خاص کر پندرہ سال سے لے کر بیس سال کی عمر تک خیال رکھیں اس کے بعد بچہ ہر بات کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور اگر بیس سال تک وہ بچہ سگریٹ نوشی نہیں کرتا تو آگے بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ سگریٹ نوشی نہیں کرے گا لیکن اس معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں کو ولگر آتے ہیں کہ پریشانی میں سگریٹ نوشی کرنی چاہیے اس سے پریشانی کم ہوتی ہے حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے اس بات کو میں اس اس بات سے جھوٹ کہوں گا کیا ہمارے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن پر زندگی کی بہت سی مشکلات آئیں لیکن انہوں نے کبھی اللہ کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگی پریشان ہونا تو دور کی بات ہے کیونکہ ان کو پتا تھا جو کرنا ہے میرے پیارے رب نے کرنا ہے اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا لیکن آج کا مسلمان پتہ نہیں کس بات پر یقین کرتا ہے اور سگریٹ نوشی پر اتر آتا ہے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں تاکہ بچے سگریٹ نوشی سے دور رہیں اور اللہ نہ کرے اگر آپ کی وجہ سے سگریٹ نوشی میں منسلک ہے تو براہ کرم اس کا علاج کریں اور سگریٹ نوشی سے اس کو دور کریں سگریٹ نوشی کی وجہ سے بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس میں سب سے بڑی بیماری کینسر ہے آج ہم اپنے بچوں کا خیال رکھیں گے تو کل ان کا مستقبل اچھا ہوگا اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچائے رکھے
Twitter: ‎@usamajahnzaib