fbpx

اساتذہ وسرکاری ملازمین شدید معاشی پسماندگی کا شکار،تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ

حکومت ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہوں میں ضم کر کے پے سکیل ریوائز کرے۔ رانا لیاقت علی

تنخواہوں اور پنشن میں 50 فیصد، ہاؤس رینٹ،میڈیکل اور کنوینس الاؤنس میں 3 گنا اضافہ کیا جائے۔
پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری سرفراز، سید سجاد اکبر کاظمی، رانا لیاقت علی، سعید نامدار، نادیہ جمشید، چوہدری محمد علی، میاں ارشد، ملک سجاد، مصطفیٰ سندھو، رانا الیاس، مرزا طارق،طاہر اسلام،رانا خالد، غفار اعوان، نذیر گجر، مبینہ راشد، طارق زیدی، مرزا اختر بیگ، چوہدری عباس ودیگر نے کہا ہے کہ اساتذہ و سرکاری ملازمین نظام حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں حکومتی کارکردگی میں ملازمین کا کردار نمایاں ہے دیگر طبقات کی طرح منہگائی نےاساتذہ وسرکاری ملازمین کو بھی متاثر کیا ہے سرکاری ملازمین شدید معاشی پسماندگی کا شکار ہیں حالات اس نہج پر پہنچ چکے کہ سرکاری ملازمین فاقہ کشی کا شکار ہو رہے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں آسمان کو چھوتی منہگائی کے مقابلے میں انتہائی قلیل ہیں اساتذہ سمیت سرکاری ملازمین کے معاشی و معاشرتی حالات میں بہتری کے لیے وزیراعظم پاکستان،وفاقی وزیر خزانہ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر خزانہ سے مطالبہ ہے کہ آیندہ بجٹ 23- 2022 میں 1- تمام ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہوں میں ضم کر کے پے سکیل ریوائز کئے جائیں، تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم 50 فیصد اضافے دیا جائے۔

2- ہاؤس رینٹ،میڈیکل، کنویس الاونس میں 3 گنا اضافہ کیا جائے۔
3- دیہی اور شہری ہاؤس رینٹ میں تفریق ختم کی جائے،دیہی علاقوں میں تعینات ملازمین کو کم از کم 10 ہزار روپے ماہانہ رورل/ ہارڈ ایریا الاونس دیا جائے۔4- خواتین اساتذہ کو اساتذہ کو منٹرنٹی لیو کیساتھ ہر ماہ بیسک تنخواہ بطور منٹرنٹی الاونس دیا جائے۔5- بناولنٹ فنڈ گرانٹ،امداد،وظائف میں 100 فیصد اضافہ اور گریڈ 1 تا گریڈ 22 تک انہیں یکساں کیا جائے۔6- وفاق کی طرز پر صوبائی ملازمین کو بھی 3 درجاتی ٹائم سکیل پرموشن دیا جائے۔7- صوبہ پنجاب کے ملازمین کو فروری 2022 میں اعلان کردہ 15 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس یکم مارچ سے دینےکا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے( وفاق،خیبر پختونخواہ،بلوچستان کی طرز پر)

8- پری میچور ریٹائرمنٹ کے لیے 55 سال عمر کی شرط کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے۔ اگر ہمارے مطالبات پورے نا کئے گئے تو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا جائے گا جس کا فیصلہ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس اجلاس میں ہو گا۔