fbpx

اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک لمبا اور انتہائی محتاط عمل ہے تا ہم ایسا ممکن ہے، تعلقات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے اگر کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حیرت انگیز اعلان نہیں ہوگا جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں کے وقت ہوا تھا ہ اسرائیل امریکا اور خلیجی ممالک سے مل کر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالہ سے کام کر رہا ہے،ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ابراہیم معاہدے کے بعد یہ اگلا قدم ہے

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل اپنے اتحادی امریکا اورخلیجی ملکوں سے مل کرسعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے پرکام کررہا ہے

اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لاپڈ نے تجویز پیش کی کہ ریاض کو اسرائیل، امریکہ اور کئی خلیجی عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالہ سے کام جاری ہے،

چار عرب ریاستوں – بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں نام نہاد ابراہم معاہدے پر دستخط کیے تھے ریاض نے معاہدوں کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو صرف اسی صورت میں معمول پر لائے گا جب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی طرف "اہم پیش رفت” ہوتی ہے۔

سعودی عرب نے بھی اکثریتی عرب ریاستوں کی طرح اصرار کیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔معاہدوں پر دستخط ہونے کے دو سالوں میں اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں پر اپنے پرتشدد حملوں کو روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

گزشتہ ہفتے،ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی بائیڈن انتظامیہ مصر، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خاموشی سے ثالثی کر رہی ہے تاکہ ریاض کو تعلقات معمول پر لانے کی ترغیب دی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اور محکمہ خارجہ کے توانائی کے ایلچی آموس ہوچسٹین سینئر سعودی حکام سے بات چیت کے لیے گزشتہ ہفتے ریاض پہنچے تھے۔ یہ ملاقات اگلے ماہ کے آخر میں بائیڈن کے خود سعودی عرب کے ممکنہ دورے کا پیش خیمہ ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات کی عدم موجودگی کے باوجود 2020ء میں اسرائیل اور یواے ای کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا ۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ایل آل اسرائیل ایئرلائنز کے طیارے نے  ابوظبی جانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود ہی سے پرواز کی تھی

محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت