fbpx

تقلید مغرب نے ہمیں مذہب سے دور کر دیا ازقلم غنی محمود قصوری

تقلید مغرب نے ہمیں مذہب سے دور کر دیا

ازقلم غنی محمود قصوری

مغرب کی اندھی تقلید کے باعث ہم اپنے دین اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم اپنی غمی خوشی ہنسی مزاح دکھ غم ہر کام میں مغرب کی اندھی تقلید کر رہے ہیں حالانکہ ہمارا دین اسلام کامل دین ہے جس میں کسی بھی کام کی بابت کچھ چھپایا نہیں گیا
ہر سال یکم اپریل کو اپریل فول منایا جاتا ہے اس دن لوگ ایک دوسرے سے بطور مزاح جھوٹ بولتے ہیں جس سے کئی اموات واقع ہو چکی ہیں
اسلام ہنسی مزاح سے ہرگز نہیں روکتا مگر اسلام جھوٹ بولنے سے روکتا ہے کیونکہ جرائم کی ابتداء جھوٹ سے ہوتی ہے
اللہ تعالی جھوٹ کے متعلق فرماتے ہیں

إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ [16-النحل:105]

ترجمہ : ”جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں.“

جب حدیث رسول ہے کہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے“۔

ایک تو ہم کافروں کی مشابہت اختیار کرکے جرم کر رہے ہیں دوسرا جھوٹ بھول کر ماضی میں کئی ایسی باتیں ریکارڈ پر ہیں کہ جب اس اپریل فول والے دن جھوٹی خبر بطور ہنسی مزاح بتانے پر کئی اموات ہو چکی ہیں حالانکہ اللہ رب العزت نے ہمیں دو بہترین دن عیدین کے منانے کے لئے دیئے ہیں جبکہ مسلمان کا ہر وہ دن اعلیٰ ہے جس دن وہ جھوٹ و ریاکاری سے بچ جائے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم خود ہنسی مزاح کو پسند فرماتے تھے جس کی عکاسی اس حدیث سے ہمیں خوب ملتی ہے

المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ فرماتی ہیں کہ میرے پیارے آقا ﷺ اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا ہمارے گھر موجود تھے میں نے ان کے لئے حریرہ
(دودھ اور آٹا میں بنا ہوا کھانا)
بنایا پھر میں نے اسے سودہ ؓ کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو حریرہ پسند نہیں
تو میں نے ان سے کہا کہ کھاؤ ورنہ میں آپ کے چہرے پر حریرہ مل دوں گی
سیدہ سودہ ؓ نے پھر کھانے سے انکار کیا تو میں نے ان کے چہرے پر حریرہ مل دیا
آپ ﷺ ہم دونوں کے درمیان بیٹھے تھے
(اور منع نہیں فرمایا، بلکہ لطف اندوز ہوئے اور)
آپ ﷺ تھوڑا جھک گئے تاکہ سیدہ سودہ ؓ بھی میرے چہرے پر حریرہ مل دیں
چنانچہ سیدہ سودہ ؓ نے بھی حریرہ لیا اور میرے چہرے پر مل دیا اور پیارے آقا ﷺ یہ سب دیکھ کر ہنستے رہے
اسلام ایک کامل دین ہے آج مغرب بھی اپنی ترقی اسی پر چل کر کر رہا ہے جبکہ ہم مغرب کے فرسودہ رسم و رواج کو اپنانے لگے ہیں جو کہ ہماری دنیا و آخرت کیلئے قطعاً درست نہیں لہذہ اپنی آخرت خراب ہونے سے بچائیے اور ہنسی مزاح و دیگر امور زندگی کیلئے اسلام کا مطالعہ کیجئے جو کہ پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے
اللہ تعالی ہم سب کو اسلام پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.