fbpx

تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرک کے علاقہ ٹیری میں تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ ،مسماری اور جلاو واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف خکومتی ایکشن شروع ہو گیا ہے

ڈی پی او عرفان اللہ حان کا کہنا ہے کہ اہم سیاسی شخصیات سمیت 350 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق صوبائی جنرل سیکرٹری اور جمعیت علما اسلام ف کے موجودہ صوبائی رہنماء رحمت سلام خٹک رات گئے اپنے گھر سے گرفتارکر لئے گئے

نامزد ملزمان میں جمعیت ف کے ضلعی امیر مولانا میر زاقیم سمیت کئی اہم علماء اور رہنما بھی شامل ہیں، پولیس ذرائع کے مطابق اب تک 31 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے مزید ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے.

دوسری جانب کرک کے مندر کے واقعے پر آئی جی خیبر پختونخواہ نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے ، آر پی او کوہاٹ طیب حفیظ چیمہ کو ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایات جاری کیں۔آئی جی خیبر پختونخواہ خود کیس کی نگرانی کریں گے۔

خیبر پختوںخواہ کے علاقے کرک میں مشتعل افراد نے ہندوؤں کے ایک مندر کو جلا کر مسمار کر دیا،

کرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سینکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔

اس موقع پر مقامی پولیس بھی موجود تھی لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

ہندو رہنما روہت کمار ایڈووکیٹ نے الزام لگایا کہ علاقہ مکینوں نے امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر کو مسمار کیا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے علاقے میں قدیم ہندو مندر مشتعل افراد نے جلا دیا

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!