ارشد شریف قتل کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز و دیگر کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ نے جاری تحقیقات ختم کر دی ہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ تسنیم حیدر ن لیگی نواز شریف، مریم نواز و دیگر، سلیم رضا، ناصر محمود، زبیر گل، راشد نصراللّٰہ کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے جس پر تحقیقات ختم کر دی گئی ہیں,تسنیم حیدر نے شریف فیملی اور انکے ساتھیوں پر ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر قاتلانہ حملے کا الزام عائد کیا تھا،اسکاٹ لینڈ یارڈ کے کاؤنٹر ٹیرر کمانڈ یونٹ نے جیو نیوز کو تصدیق کی کہ الزامات کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الزامات لگانے والے تسنیم حیدر کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا۔
نومبر 2022 میں، مسلم لیگ (ن) کے برطانیہ کے سینئر کارکن تسنیم حیدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ نواز شریف، محمود، رضا، گل اور نصر اللہ لندن میں ارشد کے خلاف قتل کی سازش تیار کرنے میں ملوث تھے -تسنیم حیدر کے الزامات کو سامنے رکھ کر پولیس نے تحقیقات کاآغاز کیا،تسنیم حیدر نے یہ الزامات اپنے وکیل مہتاب انور عزیز کے ساتھ لندن میں ایک پریس کانفرنس میں لگائے تھے اور دونوں نے پولیس سٹیشن بھی گئے تھے اور میڈیا سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا تھا کہ شریفوں اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں۔
پولیس نے ان الزامات کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سینٹرل ویسٹ کمانڈ یونٹ نے معاملہ ا انسداد دہشت گردی کمانڈ یونٹ – SO15 کو دے دیا۔تقریباً 18 ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد، پولیس نے بتایا ہے کہ وہ ثبوت کی کمی کی وجہ سے "یہاں برطانیہ میں تحقیقات شروع نہیں کریں گے”۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ پہلی شکایت 5 نومبر 2022 کو لندن میں کی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ نواز اور مریم نے لندن سے عمران پر حملے کا حکم دیا تھا۔یہ شکایت سنٹرل چیمبرز لاء فرم کے سالیسٹر عزیز نے چیئرنگ پولیس اسٹیشن میں کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
سابق وزیر اعظم عمران کو یکم نومبر 2022 کو اس وقت گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ پر وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران کنٹینر کے سامنے کھڑے ایک مشتبہ شخص نے خودکار پستول سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔اسی سال 20 نومبر کو تسنیم حیدر نے عزیز کے ساتھ اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور دوبارہ دعویٰ کیا کہ پولیس اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے اور انہوں نے تین مواقع پر ثبوت پولیس کے حوالے کیے ہیں۔ ہم نے 5 نومبر، 10 نومبر اور 19 نومبر کو پولیس کو ثبوت دیے۔ تسنیم حیدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد پر حملے کا منصوبہ لندن میں بنایا گیا تھا اور 20 ستمبر 2022 کو نواز کے ایک ساتھی نے ارشد پر حملہ کرنے کے لیے کینیا میں شوٹر فراہم کرنے کو کہا۔
یاد رہے کہ لندن میں سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پر عمران خان پر وزیر آباد میں ہونیوالے حملے اور کینیا میں ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے الزام عائد کرنے والے سید تسنیم حیدر شاہ کے حوالے سے اہم حقائق سامنے آئے ہیں ۔سید تسنیم حیدر شاہ جو کہ چھیمے شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکہ بھی چار سال سے زائد عرصہ تک رہے جس کے بعد پاکستان اور پھر لندن منتقل ہو گئے،سید تسنیم حیدر شاہ عرف چھیمے شاہ کا تعلق مدینہ سیداں ، گجرات سے ہے ۔ ان کے والد کا نام سید اکرم شاہ تھا جو کہ خاندانی دشمنی میں قتل ہوئے تھے ۔ان کے والد اسلامیہ سکول گجرات کے ہیڈماسٹر تھے ۔ ان کے چچا سید اعظم شاہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ بھی گجرات کچہری میں قتل ہوئے تھے ۔سید تسنیم حیدر شاہ کے خاندان کے اہم ارکان پر بھی قتل کے الزامات ہیں۔
تسنیم حیدر نے جب شریف خاندان پر ارشد شریف قتل کے الزام عائد کئے تھے تو ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب کا مؤقف سامنے آیا تھا ،انکا کہنا تھا کہ تسنیم حیدر کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں، کوئی شخص زبردستی پارٹی ترجمان بننے کی کوشش نہ کرے۔ تسنیم حیدر کے ساتھ تصویر میں نظر آنے والا شخص پی ٹی آئی لندن کا آرگنائزر ہے، جعلسازی، جھوٹ اور فیک نیوز سے ارشد شریف کے اصل قاتلوں سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی
اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم
ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے
ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ
ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ
کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی
مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا
ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف
ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم