ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

0
81

سپریم کورٹ ، ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا تاثر تھا کہ بیرون ملک افراد سے رابطہ کیا ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایسے لوگ جو ملک سے باہر تھے ان سے رابطہ کیا، کچھ لوگوں کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے تین سٹیجز ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کچھ لوگوں کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں،’

دوران سماعت ارشد شریف کی اہلیہ روسٹرم پر آ گئیں ،اور عدالت میں کہا کہ اس جے آئی ٹی میں اے ڈی خواجہ جیسے افسران کو شامل کریں، جے آئی ٹی میں شامل افسران سب ارڈینیٹ ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی ریٹائرڈ افسر کو شامل نہیں کرینگے، ان کو کام کرنے دیں، لوگوں کو ٹرسٹ کرنا چاہیئے، ہماری نظر ان پر ہے،آپ یہاں آیا کریں، دیکھیں کہ کاروائی کیسے چلتی ہے، ارشد شریف کی اہلیہ نے استدعا کی کہ اس کیس میں اے ٹی اے شامل کی جائے ، جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے کہا کہ اگرتفتیش کے دوران اے ٹے اے شامل ہوسکتا ہے تو وہ ہوجائیگا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسے لوگ جو ملک سے باہر تھے ان سے رابطہ کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو یہاں ڈسکس نہیں کرسکتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کینین اتھارٹی متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے کینیا کے جن لوگوں سے تحقیقات کرنی ہیں ان کے نام دیے ہیں جے آئی ٹی کو وزارت خارجہ کی مکمل مدد حاصل ہے،عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کے لئے بیرون ملک جانے کے لئے فنڈز جاری کئے گئے ہیں، بتایا گیا کہ فارن آفس پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے،ہم نے نوٹ کیا کہ جو تفتیش میں پیش رفت ہوئی اس میں 41 گواہوں کے بیان قلمبند کئے گئے، جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے 3 فیز ہیں، ایک پاکستان، دوسرا دبئی اور تیسرا کینیا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ فیز ون کی تحقیقات تقریبا مکمل ہوچکی ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کی ٹائم لائن نہیں دی جاسکتی، جے آئی ٹی پہلے دبئی، پھر کینیا تحقیقات کریگی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ارشد شریف کے کچھ ڈیجٹل آلات ہیں جو ابھی تک نہیں ملے،کیا جے آئی ٹی کو یہ پتہ چلا کہ وہ آلات کدھر ہیں،پتہ چلائیں وہ ڈیجٹل آلات کینین پولیس، انٹیلیجنس یا ان دو بھائیوں کے پاس ہیں، یہ جے آئی ٹی کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو تحقیقات میں شامل کرنے کیلئے وزارت خارجہ سے ڈسکس کریں، کیا کینین اتھارٹی متعلقہ لوگوں کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے،

ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

 وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

 ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

Leave a reply