ارشد شریف قتل کا مقدمہ آج شام تک درج کرنے کا حکم

0
84
supreme court

ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنی تھی جو واپس بھی آگئی،معاملے پر ارشد شریف کی والدہ کی چٹھی بھی آئی ،ایک رپورٹ وزارت کی جانب سے آنی تھی وہ ابھی تک کیوں نہیں آئی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں ایک رپورٹ ویک اینڈ پر ملی جو ہم عدالت میں جمع کرائیں گے ، وزیر داخلہ راناثنااللہ فیصل آباد میں تھے ان کے دیکھنے کے بعد جمع کرائینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹک کے معاملات کیوں سامنے لارہے ہیں؟ ہم وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو بلالیتے ہیں کینیا میں بہت پاکستانی ہیں ، میں بھی ایک بار وہاں گیا ہوں،

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم شہبازشریف کو رپورٹ کا جائزہ لینے دیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی ہے؟اس کا مطلب کے وزیر داخلہ کو رپورٹ پسند آئی تو پھر جمع کرائینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ رپورٹ 600 صفحات پر مشتمل ہے،ہمیں اعتراض نہیں کہ رپورٹ کا جائزہ چیف ایگزیکٹو لیں، لیکن عدالت میں پیش کریں،کیس میں ہم 43 دن سے دیکھ رہے ہیں میڈیکل رپورٹ اطمینان بخش نہیں،معاملے کو ہم سنجیدگی سے لے رہے ہیں،صحافی سچ کی آواز ہیں،جو رپورٹ ہے وہ چھپا کر نہیں رکھی جاسکتی،فوری فراہم کی جائے، رپورٹ میں اگر حساس معاملات ہیں تو ان چیمبر بریف کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں، اس کیس کو اہم سمجھ کر پانچ رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، سیکریٹری خارجہ اسد مجید سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی وزارت ہے جس نے کینیا سے کوآرڈینیٹ کرنا ہے،ارشد شریف قتل کیس ، ازخود نوٹس پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی سپریم کورٹ نےارشد شریف قتل سے متعلق رپورٹ آج ہی جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق کیس میں کوئی ایف آئی آر پاکستان اور کینیا میں درج نہیں کی گئیں، سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ہمارا کینیا میں سفارتخانے سے اعلیٰ سطح رابطہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں کہ ایف آئی آر کیوں نہیں درج کی گئی؟ اگر کچھ غلط ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا،از خود نوٹس پر سماعت کل کرینگے، وقت کا بعد میں بتا دینگے،ارشد شریف پاکستان کا ایک لیڈنگ صحافی تھا ،یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے ، صحافی معلومات تک رسائی کا ذریعہ ہیں،

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سیکرٹری خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پہلے سےہی بہت مقبول ہیں، قتل سے متعلق عوام میں بہت خدشات ہیں جن کو سامنے لانا ضروری ہیں،قتل کو لے کر کس کس پر انگلیاں نہیں اٹھائی گئیں، یہ کتنا خطرناک ہے،صحافیوں سے بدسلوکی برداشت نہیں کی جائیگی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے میں وزرت خارجہ کا لیڈنگ رول ہے، کیا کینیا والے اپنا رپورٹ شیئر کرینگے؟ سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کا مقدمہ آج شام تک درج کرنے کا حکم دے دیا

صحافی رہنما افضل بٹ کا کہنا تھا کہ پی ایف یو جے کی جانب سے چیف جسٹس کا شکریہ عطا کرتے ہیں ،دو ہفتے پہلے ایک درخواست دی گئی ارشد شریف قتل سے متعلق قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے ،

‏ارشد شریف کو گولی کیسے لگی؟ حقائق سامنے آ گئے

ارشد شریف کی موت،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،وفاقی وزیر اطلاعات

 وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ارشد شریف کی والدہ کے پاس تعزیت کے لئے پہنچ گئیں

جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

 ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

واضح رہے کہ ارشد شریف کو کینیا میں قتل کیا گیا تھا ، ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس کو جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے بھی خط لکھ رکھا ہے

Leave a reply