fbpx

تصویر کا دوسرا رخ تحریر: احسان الحق

شاید ہی کوئی ایسا سورج طلوع ہوا ہو جس دن ملک عزیز میں کسی عورت کے ساتھ جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد نہ کیا گیا ہو یا کسی بچے یا بچی کو جنسی حیوانگی کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو. اکثر کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی رہتی ہے. کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کا ہر واقعہ المناک اور افسوس ناک ہے. اس طرح کے واقعات میں کوئی شکوک وشبہات یا دوسری رائے کا ہونا ناممکن ہے مطلب کسی بھی صورت میں ان واقعات کا دفاع نہیں کیا جا سکتا. ان واقعات میں ملوث تمام انسانی درندوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے.

دوسری طرف خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے متضاد حقائق سامنے آتے رہتے ہیں. آج ہم خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جنسی اور جسمانی تشدد یا بلیک میلنگ کے واقعات کی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں. پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے تمام ناخوشگوار واقعات کی تصویر کا ہمیشہ ایک ہی رخ دیکھا جاتا ہے. حالانکہ بعض اوقات ان واقعات کے حقائق ہماری قائم کردہ رائے یا سوچ سے مختلف برآمد ہوتے ہیں. ہم ایک جذباتی قوم ہیں، بغیر سوچے سمجھے کسی کو مظلوم اور کسی کو ظالم تصور کر لیتے ہیں. بالخصوص جہاں مرد اور عورت فریق ہوں وہاں ہمارے خیال میں عورت ہی مظلوم اور مرد ہی ظالم ہے. حالانکہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس تھا. خیر، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جب تک تفتیش کے بعد معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کے متعلق رائے قائم نہیں کرنی چاہئے.

راقم کی ذاتی سوچ اور ذاتی مشاہدے کے مطابق پاکستان میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی نوعیت اور صورت چار طرح کی ہوسکتی ہے. پہلا یہ کہ واقعتاً اور حقیقتاً متاثرہ عورت معصوم اور مظلوم ہوتی ہے. اس طرح کے واقعات میں کلی طور پر مرد یا مردوں کی طرف درنگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور عورت بے چاری لاچار اور مجبور ہوتی ہے.

دوسری صورت میں مرد اور عورت برابر کے گناہ گار اور ذمہ دار ہوتے ہیں. اکثر اس طرح کے واقعات میں مرد اور عورت کے درمیان ناجائز اور غیرشرعی مراسم ہوتے ہیں. ان ناجائز تعلقات کے نتائج ہمیشہ افسوس ناک ہوتے ہیں اور کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے. ہمارا جھکاؤ مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیشہ عورت کی طرف ہوتا ہے اور ہم عورت کو مظلوم ثابت کر گزرتے ہیں. اس طرح کے واقعات کافی رونما ہو چکے ہیں.
حال ہی میں پیش آنے والے دو انتہائی افسوس ناک واقعات کو مثال کے طور پر دیکھتے ہیں. ان واقعات کی بنیاد غیرشرعی اور غیر اخلاقی تھی اور نتائج بھی انتہائی بھیانک نکلے. پہلا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا. عثمان مرزا نامی ساتھیوں کی مدد سے ایک جوڑے کو زدوکوب کرتا ہے، کیمرے کے سامنے کپڑے اتارنے اور غیر اخلاقی کام کرنے کے لئے زبردستی کرتا ہے. مجرم عثمان مرزا اور ساتھیوں نے انتہائی غلط کام کیا، اس فعل کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. اب سوال یہ ہے کہ وہ جوڑا کون تھا؟ کہاں تھا؟ کیا کر رہا تھا؟ ان کے درمیان کیا تعلقات تھے؟
مبینہ طور پر لڑکا اور لڑکی اپنے اپنے گھر سے دور کسی دوست کے فلیٹ پر انتہائی شرمناک اور قابل اعتراض حالت میں عثمان اور ساتھیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے اور انہوں نے جوڑے کو کیمرے کے سامنے وہ سب کرنے کو کہا جو وہ کیمرے کے پیچھے کر رہے تھے. پوری قوم، سارا میڈیا، حکومت اور پولیس جوڑے کی حمایت میں آ گئے اور مجرمین کی مخالفت میں. آج تک اس جوڑے کے درمیان قائم غیراخلاقی تعلقات کی مذمت کسی نے نہیں کی. میرے خیال میں اس واقعے کا ہر کردار گناہ گار ہے. عثمان مرزا اور ساتھیوں سمیت اس جوڑے کو بھی سزا ملنی چاہیے تھی.
اس طرح کا دوسرا افسوس ناک واقعہ بھی اسلام آباد میں پیش آیا جس کی بنیاد بھی مبینہ طور پر غیر اخلاقی تھی. بغیر نکاح کے ان کے مراسم تھے اور نتیجہ نکلا ایک عورت کے قتل کی صورت میں. پہلے واقعے میں ایک جوڑے کی عزت گئی اور دوسرے واقعے میں ایک جوڑے کی زندگی گئی.
تعلقات غلط، نتائج غلط.

تیسری صورت میں عورت اپنا عورت کارڈ استعمال کر رہی ہوتی ہے. مردوں پر من گھڑت اور جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں. یہاں بھی ہماری جذباتی قوم عورت کی حمایت اور وکالت میں یکجا ہو جاتی ہے اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر الزامات بے بنیاد تھے. مگر اس وقت تک اس مرد کا گھر عزت اور بعض دفعہ نوکری بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے.
ذیل میں کچھ واقعات دیکھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت ہمیشہ مظلوم یا سچی نہیں، کبھی کبھی عورت عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے. علی ظفر اور میشا شفیع کا واقعہ سب کو یاد ہوگا. جس میں میشا شفیع نے بے بنیاد الزامات لگائے بعد میں عدالت نے بھی ان الزامات کی تردید کی اور میشا شفیع پر سزا اور جرمانہ عائد کیا. لاہور میں ایک طالبہ اپنے پروفیسر پر الزام لگاتی ہے، الزام جھوٹا ثابت ہوتا ہے مگر وہ پروفیسر خودکشی کر کے اپنی جان لے چکا ہوتا ہے. اسی طرح ایک لڑکی دو یا تین پولیس والوں پر الزام لگاتی ہے، عدالت ان کو سزا سناتی ہے، نوکری سے برطرف کئے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک کی بیوی بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، بعد میں پتہ چلا کہ وہ الزام جھوٹا تھا.

خواتین سے متعلقہ واقعات کی چوتھی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے جس میں عورت شہرت حاصل کرنے یا مرضی کی شادی کرنے کے لئے ڈامہ رچاتی ہے. اس نوعیت کے بھی متعدد واقعات ہیں بالخصوص ٹک ٹاکر لڑکیوں کے غیراخلاقی سیکنڈل سامنے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد صرف شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے. کچھ دن پہلے اسی طرح کا لاہور میں مینار پاکستان پر واقعہ پیش آیا. ابھی تک اس کے متعلق متضاد خبریں ہیں. راقم کے ذاتی خیال میں یہ واقعہ بھی شہرت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے. والله اعلم
کچھ ماہ قبل ایک لڑکی کے اغوا کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب اس نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس کے لئے مجھے ڈرامہ کرنا پڑا، ویڈیو میں اس لڑکی نے شادی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے شوہر کو بھی دکھایا. پچھلے سال کراچی میں ایک لڑکی کے اغوا ہونے کا واقعہ وائرل ہوا. کچھ دنوں بعد وہی لڑکی تیسری گلی کے ایک چوبارے سے ملی جہاں وہ اپنے محبوب کے ساتھ رہ رہی تھی.

ارشاد نبویؐ ہے کہ
"آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو بغیر تحقیق کے آگے پہنچائے”
بحیثیت مسلمان اور ایک قوم ہمارا اخلاقی اور شرعی فرض ہے کہ جب تک معاملے کی حقیقت سامنے نہ آئے تب تک کسی کو قصور وار اور گناہ گار نہیں ٹھہرانا چاہیے اور اسی طرح نہ کسی کو معصوم اور مظلوم. سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے. آپکی فیس بک پوسٹ یا ٹویٹ بہت دور تک جاتی ہے.

#mian_ihsaan