ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

0
36

لندن :ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکہ میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلح شخص نے یہودیوں کی عبادت گا ہ میں داخل ہو کر وہاں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنانے والوں میں ایک برطانوی شہری ملک فیصل اکرم بھی تھے جس نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

ادھر اس حوالے سے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ٹیکساس کی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنانے کے بعد گولی مار کر ہلاک کرنے والے برطانوی شخص کا نام ملک فیصل اکرم ہے

اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بلیک برن سے تعلق رکھنے والا برطانوی 44 سالہ شخص ملک فیصل اکرم جو کہ ریاستہائے متحدہ میں نہیں رہتا تھا لیکن اس نے حال ہی میں وہاں کا سفر کیا تھا۔

دوسری طرف اس حوالے سے ملک فیصل اکرم کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی موت سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں بتا نہیں سکتے کہ ملک فیصل نے اگرایسا کیا ہے تواس کے ہمارے اوپر کتنے منفی اثرات ہ ی ں ، انہوں نے مزید کہا کہ "وہ اس کے کسی بھی عمل سے اتفاق نہیں کرتے اور نہ اس کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ پر وہ افسوس کرتے ہیں اگرواقعی ایسا ہے

گھر والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس جرم کی معافی مانگتے ہیں اور ملک فیصل اکرم کے اس قبیح فعل سے برات کا اعلان کرتے ہیں‌

اس حوالے سے فیصل اکرم کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں بھی یہ احساس ہے کہ ہمارے بھائی نے اس دوران اپنے رویے سے غلط تاثر دیا لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدرآگے جاسکتا ہے

گلبر نے کہا، "ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو ہم اس سے کہہ سکتے تھے یا کیا کر سکتے تھے جو اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرتا۔”

میٹروپولیٹن پولیس کا انسداد دہشت گردی یونٹ "امریکی حکام اور ایف بی آئی کے ساتھیوں سے رابطہ کر رہا ہے”، جس نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اس حملے میں کوئی اور شخص ملوث تھا۔

ادھر اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی موصول ہوئی ہیں کہ فیصل اکرم نے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے کے قریب کولی وِل میں کنگریگیشن بیت اسرائیل کی عبادت گاہ کے اندر ایک ربی سمیت چار افراد کو یرغمال بنا لیا۔

ایک کو چھ گھنٹے کے بعد رہا کر دیا گیا اس سے پہلے کہ FBI SWAT کی ایک ٹیم رات 9 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئی، حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور باقی تین کو بغیر کسی نقصان کے رہا کر دیا۔

امریکہ سیکورٹی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس دوران انہوں نے یرغمال بنانے والے کو عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا گیا، ایک پاکستانی نیورو سائنس دان جس کا القاعدہ سے تعلق کا شبہ ہے، جسے افغانستان میں زیر حراست امریکی فوجی افسران کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ صدیقی سے بات کرنا تھا ، جنہیں 2010 میں سزا سنائے جانے کے بعد فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں ایف ایم سی کارسویل میں رکھا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے اپنی بہن کہا، لیکن کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے جان فلائیڈ نے کہا کہ صدیقی کا بھائی اس میں ملوث نہیں تھا۔اس نے ایک مذہبی تعلق کو بنیاد بنا کر بہن کہا ہوگا

انہوں نے کہا، "اس حملہ آور کا ڈاکٹر عافیہ، ان کے خاندان، یا ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کے حصول کی عالمی مہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

"ہم چاہتے ہیں کہ حملہ آور جان لے کہ اس کی حرکتیں برے ہیں اور ہم میں سے جو ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کے خواہاں ہیں ان کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔”

نیو یارک شہر میں ایک ربی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکساس میں یرغمال بنائے گئے ربی نے صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،

امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کولی ولی کی بیتِ اسرائیل نامی یہودی عبادت گاہ (سائناگوگ) میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

یاد رہےکہ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک شخص نے یہودی معبد میں راہب سمیت 4 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ 4 افراد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد ایک یرغمالی کو رہا کیا گیا تھا۔ یہودی عبادت گاہ کی جانب سے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

پولیس چیف کے مطابق یہودی عبادت گاہ میں 10 گھنٹوں تک یرغمال رہنے والے تمام 4 افراد کو رہا کرا لیا گیا ہے،جبکہ تمام یرغمالی خیریت سے ہیں۔ یرغمال کرنے والا مشتبہ شخص ہلاک ہو چکا ہے، یرغمال بنائے جانے والے شخص کی شناخت ہو گئی ہے تاہم حکام کی جانب سے یرغمال شخص کی شناخت ابھی نہیں بتائی گئی۔یرغمال بنانے والے شخص نے دیگر مطالبات کے ساتھ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے عافیہ صدیقی افغانستان میں امریکی فوج اور حکومتی اہلکاروں پر مبینہ قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے 7 الزامات میں ٹیکساس کی جیل میں 86 برس کی قید کاٹ رہی ہیں۔

Leave a reply