fbpx

سانحہ تیزگام:شہداء کےلواحقین کو معاوضہ نہ مل سکا

اسلام آباد:پاکستان ریلوے پر پھر سے دباو بڑھنے لگا ہے اورجہاں اس واقعہ کوتین سال ہوگئے ہیں ابھی تک اس حادثے میں جانبحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین مارے مارے پھر رہے ہیں،شاید انہیں حالات کی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ اس سانحہ تیز گام کوتین سال مکمل ہونےکےباوجود شہداء کےلواحقین کومعاوضہ نہ مل سکا،

تفصیلات کے مطابق تین سال قبل پاکستان میں ریلوے کو ایک بار پھر بڑے حادثے اور سانحے کا سامنا کرنا پڑا، آج سے تین سال قبل سانحہ تیزگام میں جل کر 75مسافر جاں بحق جبکہ35 زخمی ہوئے تھے،یاد رہے کہ تین سال اس حادثے کو ہوچکے ہیں لیکن آج تک اس حادثے کی ٹھوس وجوہات کا علم نہ ہوسکا

عمران ریاض خان،معید پیرزادہ کے بعد ارشاد بھٹی بھی پاکستان چھوڑگئے

یاد رہے کہ آج سے تین سال قبل یعنی31 اکتوبر 2019کوپاکستان ریلوے کی کراچی سے راولپنڈی جانے والے واضح رہے کہ کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے آتشزدگی کے باعث 75 افراد جاں بحق جبکہ 35 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے۔

ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ تین سال قبل ہونے والے اس حادثےمیں جاںبحق ہونےوالوں کےلیےفی کس15لاکھ روپےانشورنس اور5لاکھ سندھ حکومت نےدینےکا اعلان کیا تھا، متاثرہ کوچز میں سفر کرنے والے کی اکثریت تبلیغی جماعت سے تھی اور وہ میرپورخاص سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔

گرین شرٹس کا فین ہوں، پاکستان 2 میچز قریب آکر ہارا اس سے مایوسی ہوئی:ڈیرن سیمی

ایف جی آئی آر دوست علی لغاری نے انکوائری کے حوالے سے بتایا کہ آگ شارٹ سرکٹ سے لگی ہے جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید نے بتایا کہ آگ سلنڈر کے چولہے کی وجہ سے لگی ہے جو مسافروں نے جلایا ہوا تھا جس کے بعد دوبارہ انکوائری کو حکم دیا گیا مگر تین سال گزرنے کے باجود اس کی رپورٹ بھی پبلک نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید نے اعتراف کیا تھا کہ ‘ہم سے غلطی ہوئی، تبلیغی جماعت والوں کو چولہا لے جانے سے نہیں روکا جاتا تھا تاہم آئندہ سے ایسا نہیں ہوگا’۔

جسٹس نورمسکانزئی قتل کیس؛گرفتارملزم کا ایران میں تربیت لینےکاانکشاف

وزارت و محکمہ ریلوے کے ترجمان نے صرف اتنا بتایا کہ صرف 7 لواحقین کو پیسے نہیں ملے ہیں ان کو انشورنس کی رقم کی ادائیگی کے لیے اقدامات ہورہے ہیں۔