fbpx

بجلی کی سولہ گھنٹے بندش سے لوگ بلبلا اٹھے

شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے) گرمی نے زور پکڑا تو واپڈا والوں نے بھی بجلی کی بندش کو معمول بنا لیا تفصیلات کے مطابق ہاؤسنگ کالونی اور نواح میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے دن اور رات کے اوقات میں بغیر اطلاع بجلی بند رہنا معمول ہو گیا
گاؤں برج والا میں گذشتہ سولہ گھنٹے سے بجلی بند ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
معصوم بچے گرمی سے پریشان ہیں تو بوڑھے نڈھال
بجلی تو بند تھی ہی لیکن ہوا بند ہونے سے لوگوں کا سانس بند ہونے لگا
بجلی کے بلوں پر دئے گئے امدادی رابطہ نمبرز مسلسل مصروف رہنے لگے اور عوام کی طرف سے رابطہ کرنے پر کال کو مصروف کر دیا جاتا ہے اگر کال سن ہی کی جائے تو یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ صبر رکھیں بجلی جائے گی، لیکن بجلی بند ہوئی کیوں اس کا جواب کسی کے پاس نہیں،لوگ بجلی کی بندش سے ستائے ہوئے تو تھے ہی لیکن محکمہ واپڈا کے اہلکاروں کی بد تمیزی سے مزید تنگ ہو رہے ہیں
علاقے میں موجود تعلیمی اداروں کے معصوم بچے بند بجلی میں جس کرب سے گزرتے ہیں اس کا احساس نہ تو متعلقہ محکمے کو ہے نہ ہی انتظامیہ کو
محکمہ تعلیم کو تعلیمی ادارے کھولنے پر اصرار تھا لیکن سہولیات کی فراہمی کی طرف کوئی توجہ نہیں کیونکہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ جب تک نقصان نہ ہو جائے مسئلے کے ازالے کی طرف توجہ نہیں دیتے
خانقاہ ڈوگراں نہر میاں علی میں کار گرنے سے گیارہ افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں تنبیہی علامات اور پل پر حفاظتی دیواروں کی تعمیر کی گئی
کیا تعلیمی اداروں میں چند معصوم طلبہ کے مرنے کے بعد حکام بالا کو خیال آئے گا ؟
آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیشہ عوام ہی کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے
بجلی بندش سے طلبہ و طالبات ، معصوم نوزائیدہ بچے،گھریلو خواتین بوڑھے سبھی تنگ ہین لیکن محکمہ واپڈا کو بجلی بند رکھنے پر ہی اصرار ہے
انتظامی محکموں میں سے کوئی ہے جو محکمہ واپڈا سے سوال کرے ، یقینا کوئی نہیں ہے کیونکہ سب تصویری سیشن میں مصروف ہیں تاکہ اپنی ریٹنگ بڑھائی جا سکے
اصل عوامی مسائل کی طرف کسی کی توجہ ہے ہی نہیں ، ورنہ محکمہ واپڈا نہ صرف بجلی بندش کا شیڈول جاری کرتا بلکہ طویل دورانیے کی بجلی بند کرنے سے قبل عوام کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع کرتا تاکہ عوام اپنے گزارے کے لئے ضروری اقدامات اٹھا سکتی
لیکن واپڈا ایسا کیوں کرے گا
وہ تو چاہتا ہے کہ گرمی کی ستائی عوام بجلی کی مسلسل بندش اور ٹرپنگ سے مزید ذلیل ہو ، جی ہاں وہی عوام کو سرکار کو ٹیکس دیتی ہے اور واپڈا کو بجلی استعمال کرنے کا بل، اگر یہ بل بروقت ادا نہ کیا جائے تو میٹر کاٹ دیا جاتا ہے لیکن عوام کے اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ ٹیکس اور بل بروقت ادا کرنے والی عوام کو بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی کیوں نہیں بنایا جاتا
اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ افسران سے اس سلسلے میں مناسب اقدامات کا تقاضا کیا ہے تاکہ عوام کو اس ضلالت سے بچایا جا سکے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.