امریکہ کے پیٹریاٹ سسٹم کی جگہ اب سعودی عرب میں اسرائیلی ڈیفنس سسٹم ہوگا

0
45

تل ابیب :امریکہ کے پیٹریاٹ سسٹم کی جگہ اب سعودی عرب میں اسرائیلی ڈیفنس سسٹم ہوگا ،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے خلاب جوبائیڈن انتظامیہ کے فیصلوں نے سعودی عرب کواپنی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اسرائیل سے رابطے کرنے پرمجبورکردیا ہے ،

اس حوالے سے بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے امریکی پیٹریاٹ سسٹم کے بدلے اسرائیل سےمیزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے

مقامی ذرائع کے مطابق امریکی THAAD اور پیٹریاٹ بیٹریاں خفیہ طور پر ریاض کے جنوب میں پرنس سلطان ایئر بیس سے اٹھا لی گئیں‌ہیں ، جیسا کہ ہفتے کے آخر میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا۔

یمن میں حوثی فورسز کی جانب سے حملے کا دعویٰ کیا گیا ، دوسری طرف امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ کہ اس کے پیچھے ایران ہے۔

ان حالات میں جب سعودی عرب کواپنی تنصیبات کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے تو پھراگرامریکہ نے بے وفائی کی ہے تویقینا سعودی عرب کومتبال ڈیفنس سسٹم چاہیے تھا اورپھراس انتخاب میں اسرائیل سے بہترکوئی سسٹم نہیں تھا

یہی وجہ ہےکہ اسرائیلی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اب اپنے اختیارات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

ایک طرف بائیڈن انتظامیہ نے سعودی عرب کوغیرمحفوظ کرنے کے لیے خطرناک کھیل کھیلا ہے اورساتھ ہی سعودی عرب پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگانے شروع کردیئے ہیں
اورساتھ ہی محمد بن سلمان کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کردیا

اس سے قبل بائیڈن کی صدارت میں ، انتظامیہ نے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

اس اقدام کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے ایک "عام انتظامی طریقہ کار” کے طور پر بیان کیا ، جس نے نوٹ کیا کہ آنے والی حکومتوں کے لیے باہر جانے والی انتظامیہ کے ذریعے شروع کیے گئے اہم ہتھیاروں کے معاہدوں کا جائزہ لینا معیاری عمل تھا۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سعودی عرب سے ڈیل ختم کرنا کا معاملہ بائیڈن انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانے کی اجازت دے گی کہ "امریکی ہتھیاروں کی فروخت ہمارے اسٹریٹجک مقاصد کو مضبوط ، باہمی تعاون اور قابل سیکورٹی شراکت داروں کو پورا کرتی ہے”۔

حال ہی میں بائیڈن انتظامیہ میں بہت سے لوگوں نے اچانک 9/11 کے حملوں میں سعودی کردار کی تجویز دینا شروع کر دی ہے اور یہ پیشرفت ریاض کو مزید الگ کرنے کا ایک یقینی طریقہ ہے۔

اس حوالے سےاسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل سے آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم خریدنے پرغورکررہا ہے جو مختصر فاصلے کے راکٹوں کے حملوں سے محفوظ بناتا ہے،

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئی اے آئی کے بنائے ہوئے بارک ای آر ڈیفینس سسٹم جس کا مقصد کروز میزائلوں کو روکنا ہے۔یہ بھی سعودی عرب کی خواہش ہوسکتا ہے ، اسی لیے تو سعودی عرب "اسرائیلی دفاعی سسٹمز میں گہری دلچسپی لے رہا ہے

ایسی صورت میں امریکہ سے دوری اسرائیل سے قربت کا سبب بنے گی اوریوں مشرق وسطیٰ میں محاذ آرائی کی بجائے معاملات فہمی پرفوکس ہوگا جس کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا

Leave a reply