ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت شروع ہو گئی

الیکشن کمیشن کے وکلاء سعدحسن اور امجد پرویز عدالت پہنچ گئے ،ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاورنے کیس کی سماعت کی ،معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ مصروف ہیں کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے،جج ہمایوں دلاورنے استفسار کیا کہ کس ٹائم تک پہنچیں گے،معاون وکیل نے کہا کہ ٹائم کنفرم نہیں لیکن فری ہوتے ہی پیش ہو جائیں گے،عدالت نے کیس کی سماعت میں 12 بجے تک وقفہ کردیا

دوبارہ سماعت ہوئی تو کمرہ عدالت میں وکلا کی زیادہ تعداد پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،وکیل شیر افضل نے کہا کہ عاشورہ میں وکلا کام نہیں کرتے ،توشہ خانہ کیس کے بیان ریکارڈ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ،ریکارڈ کرنے کا مناسب وقت دیا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے 35سوالات پوچھے ہیں،تحریری جواب بھی دینا ہے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سوالنامہ مہیا کرنا ملزم کیلئے ایک طرح کا ریلیف ہے،وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے کوئی ریلیف نہیں لیا جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی ریلیف کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کریں

وکیل شیر افضل نے کہا کہ گارنٹی دیتا ہوں آئندہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی بیان ریکارڈ کروائیں گے ، وکیل الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کا آج 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کی استدعا کی، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب ! آپ کو وقت دیا گیا ،آپ نے بیان ریکارڈ نہیں کروایا ، 3 بجے تک آپ کے پاس بیان ریکارڈ کروانے کا وقت ہے ، خواجہ حارث نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں میں نے ابھی دستاویزات مکمل نہیں پڑھیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے جج ہمایوں دلاور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کل سوالنامہ دیا گیا ابھی تک تو میں نے ایک ایک سوال پڑھ کر جواب دینا ہے، میرے نام سے بیان ہوگا میں مطمئن ہو کر دوں گا، آپ جو مثالیں دے رہے ہیں وہ عام کیسز میں تو ٹھیک ہے لیکن میں 180 مقدمات کی تفتیش بھگت رہا ہوں، یہ کوئی معمولی بات نہیں،جج ہمایوں دلاور نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی لیگل ٹیم آپ کیساتھ زیادتی کررہی ہے، عمران خان نے کہا کہ 35 سوالات دیے، میں کوئی وکیل تو نہیں ہوں،مجھے تو بیانات کو خود پڑھنا ہے ابھی، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ اگر خواجہ حارث چاہیں تو ایک ایک سوالات آپ کو بتایا اور سمجھایا جا سکتا ہے، خواجہ حارث، انتظار پنجوتھا اور شیرافضل کے ہوتے کیا فکر ہے؟ عمران خان نے کہاکہ مجھے کوئی ڈر نہیں، میں سب پڑھ کر بیان ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں،

جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب وکلاء کو کمرہ عدالت سے رخصت کردیں، چیرمین پی ٹی آئی کو سمجھائیں اور بیان ریکارڈ کروائیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ گن پوائنٹ پر کیسز نہیں سنے جاتے، چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ڈیڑھ سو سے زائد کیسز ہیں، شاملِ تفتیش بھی ہونا، معمول کے مطابق حالات نہیں،میں مطمیئن ہوں گا تو بیان ریکارڈ کرواؤں گا نا، جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کافی وقت دیا آپ کو،آج عدالت آپ کو مزید وقت نہیں دےگی، 3 بجے تک کا وقت ہے، عدالت نے 3 بجے تک چیرمین پی ٹی آئی کو بیان ریکارڈ کروانے کی مہلت دےدی

توشہ خانہ کیس کی سماعت تیسری بار شروع ہوئی تو چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے 342 بیان کی کارروائی ملتوی کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ہائیکورٹ میں معاملہ پنڈنگ تھا اور یہاں کاروائی چلائی جاتی رہی،چیئرمین پی ٹی آئی کو ہائیکورٹ کی ڈائری برانچ سے نیب نے اٹھایا،اگلے دن پولیس لائن میں عدالت لگا کر پیش کر دیا گیا،مجھے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا اور اس عدالت میں پیش کیا گیا ،پولیس لائن پیشی پر فرد جرم عائد کی گئی،فرد جرم کی کارروائی پر ہمارے تین اعتراضات ہیں،،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ یہ اسی دن کا واقع ہے جب فرد جرم عائد ہوا اور آپ کی جانب سے کہا گیا کہ اٹھیں اٹھیں ،وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویزنے تصدیق کی اور کہا کہ اسی دن کا واقعہ ہے جب فرد جرم عائد کی گئی تھی،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کے سامنے فردجرم بھی نہیں پڑھا، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ یہ وہی دن ہے جب فردجرم پڑھایا گیا اور آپ نے کہا اٹھیں اور چلیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فردجرم عائد کرتے وقت جرم چیرمین پی ٹی آئی کو پڑھایاگیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے کبھی سماعت کی بائیکاٹ نہیں کی، ایسا کہہ بھی کیسے سکتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی پر کوئی فردجرم عائد نہیں ہوا، میں بار بار کہتا ہوں،

جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنا افیڈیوٹ جمع کروائیں گے کہ فردجرم عائد نہیں ہوا؟ کیا افیڈیوٹ جمع کروا سکتے ہیں کہ فردجرم آپ کے سامنے نہیں پڑھا گیا، وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ تین اپیل کی درخواستیں اعلی عدلیہ میں زیر التوا ہیں، فرد جرم کبھی چیرمین پی ٹی آئی کو پڑھ کر ہی نہیں سنایا گیا،نہ فردجرم پڑھا، نہ سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کا جواب لیا گیا تھا،

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ جاری کرنا ہوتا تو پہلے لکھا جاتاہے، آپ نے زبانی فیصلہ سنا دیا، کیا عدالت نے پہلے سے مائنڈ بنایا ہوا کہ دلائل سنائیں تاکہ جلد فیصلہ سنایاجائے؟ اس عدالت سے کیس منتقل کرنے کی درخواست بھی دی لیکن عدالت نے اپنی کاروائی موخر نہیں کی،تاثر آرہا ہے کہ یہ عدالت بائسڈ ہے گواہ ان اوتھ عدالت میں جھوٹ بول رہے ہیں،اگر گواہ عدالت میں بتا دے کیس سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت موجود ہے،میں نے گواہ کو کہا وہ ریکارڈ عدالت میں دیکھائے جو ملزم کیخلاف ہے،آپ کی عدالت نے کیس قابلِ سماعت ہونے کے معاملے پرتین روز میں فیصلہ سنا دیامیں نے کہا پانچ روز میں فیصلہ سنا دیں، ہماری آپ نے نہیں سنیاسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس قابلِ سماعت ہونے پر 7 روز کا وقت تعین کیا، آپ تین دن میں فیصلہ سنا رہے،آپ ہمیشہ تاریخیں گنتے ہیں، چھٹیوں کو کون گنتا ہے، عید اور عاشورے کی چھٹیوں میں کیسے وکلاء سے کام کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟

وکیل خواجہ حارث سیشن عدالت کے قابلِ سماعت ہونے کے فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر اعتراض پڑھ رہے ہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کیا توشہ خانہ کیس میں جانبداری نظر نہیں آ رہی ؟چیئرمین پی ٹی آئی کے دماغ میں عدالت کی جانب سے ایسا تاثر بنا دیاگیاہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا عدالتی حق متاثر کیا جارہا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کے سامنے ایک تاثر ہے کہ سیشن عدالت جلد فیصلہ سنا کر چاہتی ہےکہ تمام اپیلیں غیر موثر ہو جائیں،آپ کہتےہیں آج فیصلہ سنا دوں گا، کل نہیں سنوں گا، کل فیصلہ ہوجائےگا،سیشن عدالت نے خودہی مجھے گواہان کے بیان ریکارڈ کرتے وقت نمائندہ مقرر کردیایسے حالات میں سیشن عدالت سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے،ملزم کو حق دیاجاتا ہےکہ وہ خود اپنا نمائندہ مقرر کرے،سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تو اپنا نمائندہ مقرر کرنے کا حق ہی نہیں دیاسیشن عدالت کے فیصلوں پراعتراضات کو اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں دائر کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی 342 کے بیان ریکارڈ کروانےسے قبل کچھ وقت چاہتے ہیں،

جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کا 342 کا بیان قلمبند کرنے کے لیے سماعت مقرر تھی، آج تیسرا دن 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے تعین تھا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے 342 کے بیان کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی،چیئرمین پی ٹی آئی اپنے وکیل خواجہ حارث کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیان قلمبند کرنے کے لیے کچھ وقت مانگنے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق آج کل 180 کیسز میں پیش ہورہے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق عاشورہ کی چھٹیوں کے باعث 342 کا بیان نہیں بنایا جاسکا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے 342 کے بیان کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کے مطابق سیشن عدالت تیزی سے ٹرائل چلا رہیچیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کے مطابق تیزی سے ٹرائل چلنے پر غیر جانبداری سے ٹرائل نہیں چل رہا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سیشن عدالت پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کامقصد تاخیری حربے استعمال کرنا تھا،چیرمین پی ٹی آئی اور ان کے وکلاء عدالت کو مزید مایوس کرنا چاہتے تھے

توشہ خانہ کیس میں سیشن عدالت نے خواجہ حارث کی 342 کا بیان ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی، سماعت کل صبح 9 بجے تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو آخری مہلت دے دی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو کل صبح نو بجے بیان ریکارڈ کرانے کے طلب کر لیا

سماعت سے قبل جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں سیکیورٹی چیک کیا گیا،اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر تعینات ہے، الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کے متعلقہ وکلاء کو عدالت میں داخلے کی اجازت دی گئی، توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران مخصوص صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت دی گئی،جج ہمایوں دلاور نے غیر متعلقہ افراد کو توشہ خانہ کیس کے دوران کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردی چیئرمین پی ٹی آئی آج توشہ خانہ کیس میں عدالت پیش ہوں گے

توشہ خانہ، ٹرائل کورٹ کو کاروائی آگے بڑھانے سے روکا جائے،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے
دوسری جانب توشہ خانہ ٹرائل کیس،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی لیگل ٹیم نے ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی، درخواست میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے نہیں روکا حکم امتناع نہ دینے سے ٹرائل کورٹ میں سماعت مکمل ہو جائے گی ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ہائیکورٹ میں اپیلیں غیر موثر ہو جائے گی۔ ہائیکورٹ کو حکم امتناع پر منظور یا مسترد کا آرڈر کرنا چاہیے تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف اپیل سماعت کیلئے منظور کی جائے ٹرائل کورٹ کو کاروائی آگے بڑھانے سے روکا جائے، چیئرمین تحریک انصاف نے اپیل پر فوری سماعت کی درخواست بھی دائر کردی

دوسری جانب اسلام آباد احتساب عدالت ،چئیرمین پی ٹی آئی اور بُشریٰ بی بی 190 ملین پاونڈ کیس ،چئیرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ نیب انکوائری کیس کی آج سماعت ہونی تھی تا ہم احتساب عدالت کے جج جسٹس محمد بشیر چھٹی پر ہیں

قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

واضح رہے کہ توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کے لئے سپریم کورٹ عدالت نے چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو نمٹا دیا ، جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی کہنا ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے کہیں، سماعت سے قبل چیئرمین پی ٹی کی موجودگی میں کمرہ عدالت کے باہر شور شرابا ہوا، جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی احترام برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ باہر سے شور شرابا ختم کرائیں ورنہ ہم کیس نہیں سنیں گے ،عدالتی احترام کو مدنظر رکھیں

بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

Shares: