ٹرمپ کے واٹس ایپ گروپ کی چیٹنگ لیک ہو گئی، عمران خان کو ایڈ کرنے پر مودی لیفٹ کر گئے، چیٹنگ سوشل میڈیا پروائرل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے واٹس ایپ گروپ میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو ایڈ کرنے کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایڈ کیا تو وہ فورا گروپ چھوڑ گئے ۔ اس دوران جب ٹرمپ نے مودی کو دوبارہ ایڈ کیا تو انہوں نے کہاکہ اس میں حافظ (حافظ سعید)اور اظہر(مسعود اظہر) کو بھی ایڈکر دواور دوبارہ پھر گروپ لیفٹ کر گئے۔

 

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ کی چیٹ تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن ٹرمپ سے کہتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ عمران خان سے ملے ہیں، آپ انہیں اس گروپ میں بھی ایڈ کر دیں جس پر امریکی صدر انہیں ایڈ کرتے ہیں تو عمران خان پہلا میسج لکھتے ہیں کہ ایاک نعبد وایاک نستعین، ا س دوران بورس جانسن ، وزیر اعظم عمران خان سے لی گئی تصویر شیئر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا میں آپ کو یاد ہوں تو عمران خان کہتے ہیں کہ آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں؟ وزیر اعظم عمران خان بورس جانسن کوبرطانیہ کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں،

واٹس ایپ چیٹ میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ جب امریکی صدر نے کہا کہ عمران خان ہمارے نئے دوست ہیں اور میلانیہ ٹرمپ بھی انہیں پسند کرتی ہیںتو ٹرمپ کے ان ریمارکس اور ا ن کی طرف سے کشمیرکے حوالہ سے دیے گئے بیان پرعمران خان نے ان کا شکریہ اداکیا تو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور وہ فورا گرو پ لیفٹ کرگئے جس پر بورس جانسن نے کہا کہ یہ مودی کو کیا ہواہے؟ تو عمران خان کہتے ہیں کہ انہیں دوبارہ ایڈ کر دیں،اس دوران ٹرمپ کی طرف سے نریندر مودی کو دوبارہ ایڈکیا گیا اور انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ ریلیکس رہیں ، میں نے تو کشمیر پر ویسے ہی بیان دیا ہے جس پر مودی نے امریکی صدر سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ حافظ (حافظ سعید) اور اظہر(مسعود اظہر) کو بھی اس گروپ میں ایڈ کر دو۔ مودی کی اس بات پر بورس جانسن نے زبردست قہقہہ لگایا جبکہ عمران خان نے کہا کہ مودی جی چائے کیسی لگی؟،تاہم اس دوران پاکستانی وزیر اعظم کے ایسا کہنے پر مودی ایک بر پھر گروپ لیفٹ کر گئے ۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی واٹس ایپ گروپ کی اس چیٹنگ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ کسی نے خودسے فرضی گروپ بنا کر یہ چیٹنگ کی اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیاہے۔ یاد رہے کہ یہ چیٹنگ منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا خوب مذاق اڑایا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.