fbpx

یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن مغربی ممالک مذاکرات سے انکار کررہے ہیں۔

باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشان بناتے ہوئے کہا کہ زیلنسکی بھی اپنے مغربی اتحادی ممالک کی طرح مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

روس کے تازہ حملے میں یوکرین کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان

صدر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس یوکرین جنگ میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ہمیں مثبت ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا اس کے باوجود ہم جنگ کے خاتمے کے قابل قبول حل کے لیے تیار ہیں۔

امریکا کی جانب سے یوکرین کو جدید فضائی سسٹم پیٹریاٹ کی فراہمی کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ روسی افواج پینٹاگون کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیں گی۔

صدر پیوٹن نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی سربراہی میں مغربی ممالک روس کو دنیا میں تنہا کرنا چاہتے ہیں اپنے ملک اور شہریوں کے مفادات کے دفاع کے لیے ہماری سمت درست ہے۔

یوکرینی صدر کا کامیاب دورہ امریکہ:مزید 45 ارب ڈالر اور میزائل ملیں گے

دوسری جانب یوکرین کے شہرکھیرسن پرہفتے کے روز روسی فوج کےحملےمیں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور58 زخمی ہوگئے ہیں حملے کے بعد شاہراہوں پر خون آلود لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

یوکرینی صدر ولودی میرزیلنسکی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پرایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں سڑکوں پر جلتی ہوئی کاروں اورکھڑکیوں اورلاشوں کونکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

انہوں نے ساتھ لکھا ہے کہ سوشل نیٹ ورکس زیادہ ترممکنہ طورپران تصاویر کو ‘حساس مواد’ کے طور پر نشان زد کریں گے لیکن یہ حساس مواد نہیں بلکہ یہ یوکرین اور یوکرینیوں کی حقیقی زندگی ہے یہ فوجی تنصیبات نہیں ہیں … یہ دہشت گردی ہے، یہ ڈرانے دھمکانے اور خوشی کی خاطر قتل ہے-

روس: اولڈ ہوم میں لگنے والی خوفناک آگ میں 20 معمر افراد ہلاک

علاقائی کونسل کے نائب سربراہ یوری سوبولوسکی نے کہا کہ ایک میزائل شہر کے فریڈم اسکوائر کے قریب ایک سپرمارکیٹ کے باہرگرا ہے۔

ماسکو کی جانب سے اس حملے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا جہاں صدرولادی میرپوتین کا کہنا تھا کہ ان کی فوجیں یوکرین میں فاشزم کے خلاف لڑرہی ہیں اور روس کی سلامتی کے لیے مغربی خطرے کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں۔

یاد رہے کہ روس نے رواں برس 24 فروری کو یوکرین پر فوج کشی کی تھی جس کے لیے امریکا سمیت عالمی قوتوں روس کو خبردار کرتی آئی تھیں تاہم روسی صدر ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائے تھے۔

یوکرین پر حملے کے بعد روس نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اپنے مقاصد کے حصول تک لڑیں گے جس پر یوکرین نے کہا تھا کہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ آخری روسی فوجی کو اپنے علاقوں سے نہیں نکال لیتے۔

امریکا میں موسم سرما کا بڑا طوفان، 10 لاکھ سے زیادہ افراد بجلی سے محروم،سینکڑوں…