اقوام متحدہ کا محمد بن سلمان پرجمال خاشقجی قتل کا الزام، رپورٹ سے یو این کی ساکھ متاثر ہوئی،عادل الجبیر

اقوام متحدہ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں‌ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار‌ ٹھہراتے ہوئے ان کے‌ خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق رپورٹ کو تضادات اور بے بنیاد الزامات کا مجموعہ قرار دیا ہے اور اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خود عالمی ادارے کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں کہ مبینہ طور پر ولی عہد محمد بن سلمان سمیت سینئر آفیشلز صحافی کے قتل میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی ریپورچر ایگنس کالامارڈ نے، جمال خاشقجی کے ساتھ گزشتہ اکتوبر میں کیا ہوا‘ کے نام سے 100 صفحات کی اپنی رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے اس قتل کو عالمی جرم قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے میں کی جانے والی تحقیقات درست نہیں‌ ہیں. اسی طرح‌ کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی تحقیقات عالمی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سعوی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جس پر سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے ردعمل ظآہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمایندہ کی رپورٹ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے اور انھوں نے اپنی غیر پابند رپورٹ میں پہلے سے میڈیا میں شائع اور نشرشدہ مواد ہی کا اعادہ کیا ہے.

انھوں نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں جمال خاشقجی کیس کی تحقیقات اور ان کے قتل میں ملوّث مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے علاوہ ترکی اور سعودی عرب کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمایندوں نے ان کے خلاف عدالت میں مقدمے کی سماعت ملاحظہ کی ہے۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عدلیہ خاشقجی کیس میں مکمل بااختیا ر مجاز اتھارٹی ہے اور وہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کررہی ہے. واضح‌ رہے کہ اقوام متحدہ نے بدھ کو 101 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے سے حاصل کردہ ریکارڈنگز پر انحصار کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلما ن نے اتوار کو لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط سے انٹرویو میں خاشقجی قتل کیس کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات ہماری ثقافت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے اور یہ ہمارے اصول واقدار کے منافی ہیں۔ اسی طرح انہوں‌ نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی حکومت نے اس قتل کے سلسلے میں ضروری اقدامات کیے ہیں،اس کے ذمے داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا ہے اور انضباطی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مکروہ جرائم کو رونما ہونےسے روکا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.