Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

طالبان اور افغان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپیں، متعدد چیک پوسٹیں قبضے میں لینے کا دعویٰ


افغانستان فریڈم فرنٹ کا کہنا ہے کہ طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کے جنگجوؤں نے کامدیش کے علاقے میں متعدد چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا، تاہم طالبان نے واقعے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔


افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ نورستان کے ضلع کامدیش کے مختلف علاقوں میں طالبان فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔ علاقے کے ایک رہائشی نے بھی فائرنگ اور لڑائی کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی۔ طالبان سے وابستہ ایک میڈیا ادارے نے بھی علاقے میں جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔


اے ایف ایف کے مطابق طالبان فورسز نے ہفتے کی صبح اس کے ٹھکانوں پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس کے جواب میں فرنٹ کے کما نڈوز نے متعدد طالبان ڈرونز کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں جوابی کارروائی شروع کی۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس دوران اس کے جنگجوؤں نے طالبان کی کئی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا، جبکہ طالبان جنگجو ارندو کے علاقے اور کامدیش کے بعض حصوں سے پڑوسی صوبے کنڑ کے ضلع ناری کی جانب پسپا ہوگئے۔


https://x.com/TOLONewsEnglish/status/2104026112607035666?s=20


افغانستان کے سابق نائب صدر امرﷲ صالح نے کہا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی میں داخل ہوچکا ہے، تاہم ان کے بقول یہ تنازع فی الحال محدود سطح پر ہے اور مستقبل میں زیادہ پرتشدد اور تباہ کن شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے طالبان کی حکومت کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان مخالف مزاحمت مختلف شکلوں میں سامنے آرہی ہے، جن میں مسلح حملے سب سے نمایاں ہیں۔


صالح کے مطابق طالبان کے دور میں افغانستان قومی خودمختاری اور ایک جائز ریاستی نظام سے محروم ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے شمالی علاقوں، کابل اور دیگر بڑے شہروں میں سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے طالبان مخالف قوتوں کے چیلنج کو حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حملے ابھی اتنے وسیع، شدید یا نمایاں نہیں ہوئے کہ انہیں فیصلہ کن مزاحمت قرار دیا جاسکے۔


سابق نائب صدر نے افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان کسی بڑے اختلاف کی اطلاعات کو بھی مسترد کیا۔ ان کے بقول افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان تعلقات باہمی ضرورت پر مبنی ہیں۔ صالح نے دوحہ معاہدے کی خفیہ شقیں منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان شقوں کے سامنے آنے سے طالبان کے طرز عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔


سابق نائب صدر نے طالبان کے حوالے سے ان تجزیوں کو بھی مسترد کیا کہ تنظیم نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی یا اصلاح کی ہے طالبان کی بنیادی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ اسے قومی، تہذیبی اور شمولیتی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے قندھار اور کابل میں طالبان قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو اس وقت ظلم، اخراج اور جبر کا سامنا ہے۔