آئس لینڈ کا نیتن یاہو کے 'اخلاقی بزدل' والے بیان پر سخت ردعمل

آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیر دور کترین گونارس ڈوٹیر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیل کے ناقدین کو ’اخلاقی بزدل‘ قرار دیے جانے پر سخت ردعمل دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے آئس لینڈ کی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کو فلسطینی شہریوں کی تکالیف کو معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیےغزہ میں بچے اب بھی مارے جا رہے ہیں، خاندان اب بھی اپنے گھر کھو رہے ہیں اور والدین بار بار اپنے بچوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، فلسطینی شہریوں کی تکلیف کو ’پس منظر کا شور‘ نہیں بننے دینا چاہیے اور عالمی بر ا دری کو غزہ کی صورتِ حال پر اپنی توجہ برقرار رکھنی چاہیے۔
آئس لینڈ کی وزیر خارجہ نے نیتن یاہو کے ’اخلاقی بزدل‘ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس پلیٹ فارم سے اخلاقی بزدل کے الفاظ سنے ہیں،میرے نزدیک اخلاقی بزدل وہ رہنما ہیں جو منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کرتے ہیں وہ لوگ بھی اخلاقی بزدل ہیں جو شدید ضرورت میں مبتلا افراد تک انسانی امداد پہنچنے سے روکتے ہیں اور بار بار عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر تے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا یہ صورتِ حال قبول نہیں کر سکتی کہ غزہ کو بار بار تباہ کیا جائے اور پھر دوبارہ تعمیر کیا جائے، جبکہ تنازع کی بنیا دی وجہ بدستور موجود رہے غزہ میں پائیدار امن کے لیے صرف تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کافی نہیں بلکہ تنازع کی بنیادی وجوہات کا حل بھی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں





